ہزارہ ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ ریلوے ہیڈ کوارٹر کو موصول
ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور کو موصول ہونے والی ابتدائی رپورٹ میں 6 افسران کے دستخط بھی موجود ہیں۔
ہزارہ ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ ریلوے ہیڈ کوارٹر کو موصول ہو گئی ہے۔ گریڈ 16 کے 6 افسران پر مشتمل رپورٹ میں مکینیکل کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریلوے کے گریڈ 16 کے چھ افسران نے ہزارہ ایکسپریس ٹرین حادثے کی رپورٹ مرتب کی ہے۔
ریلوے ہیڈ کوارٹر کو موصول ہونے والی رپورٹ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں تین افسران نے اس بات کا شک ظاہر کیا ہے کہ تحریک کاری کے عنصر کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھیے
توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر
حکومت نے پیمرا ترمیمی بل 2023 واپس لے لیا
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو لائنوں کو جوڑنے والی پلیٹیں مذکورہ جگہ پر تھی ہی نہیں۔ اس لیے تخریک کاری خارج از امکان نہیں ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہاں سے ریلوے لائن کا حصہ ٹوٹا ہوا تھا وہ لکڑی سے دونوں حصوں کو جوڑا گیا تھا، جبکہ فش پلیٹس غائب تھیں۔
ریلوے ہید کوارٹر کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق حادثے کی شکار ٹرین کے انجن کے پہیے بھی خراب تھی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق ریلوے کے تین افسران نے تخریک کاری کے عنصر سے اتفاق نہیں کیا ، ان کا کہنا ہے کہ حادثہ انجینئرنگ اور مکنیکل انجینئرنگ کے شعبے کی کوتاہی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹوٹی پٹری کو جوڑنے کے لیے لکڑی کے ٹکڑے کا استعمال کیا گیا تھا ، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ مکنیکل کوتاہی ہے۔
ریلوے ہیڈ کوارٹر لاہور کو موصول ہونے والی ابتدائی رپورٹ میں 6 افسران کے دستخط بھی موجود ہیں۔









