میتوں اور بچوں سے جنسی تشدد کا بل منظور
مُردوں کی بےحرمتی اور بچوں پر جنسی تشدد کے مجرموں کی سزا ایک ہی ہوگی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے میتوں کی بے حرمتی اور بچوں پر جنسی تشدد کے انسداد کا بل منظور کرلیا ہے۔ بل سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا تھا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ رحمان ملک کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ ‘میتوں کو قبر سے نکال کر ریپ کیے جانے کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں۔ ان واقعات کا سدباب اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جانا انتہائی ضروری ہے۔ اگر یہ بل پاس نہ ہوا تو کل ہم نے اور ہمارے اپنوں نے بھی قبر میں جانا ہے۔’
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مُردوں کی بے حرمتی پر سزاؤں کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
چیئرمین کمیٹی رحمان ملک نے قبرستانوں کے گرد چار دیواری اور سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ‘ایسے جرائم قابل افسوس ہیں جن پر سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔ قبرستان میں میت کے ساتھ ریپ کی سزا بھی وہی ہونی چاہیے جو زندہ انسان کے ساتھ ریپ کی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے قانون سازی انتہائی ضروری ہے۔’
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ رحمان ملک نے بچوں سے جنسی تشدد کے کیس میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے بل کی بھی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ ‘بچوں سے جنسی تشدد کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے جو قابل تشویش ہے۔ اس کمیٹی نے کمسن زینب سے جنسی تشدد و قتل کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ کمیٹی نے ظالم قاتل کی سزا تک کیس کی پیروی کی اور اسے انجام تک پہنچایا، وقت کی ضرورت ہے کہ ایسے ظالم مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔’
یہ بھی پڑھیے
کشمالہ طارق کے سرکاری پروٹوکول کی ٹکر سے 4 افراد جاں بحق
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بچوں سے جنسی تشدد کے بل پر بحث کے بعد اسے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ اس موقع پر سینیٹر شہزاد وسیم نے بچوں سے جنسی تشدد کے واقعات میں سرعام پھانسی کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پہلے ہی دو آرڈیننس آچکے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی اور قائد ایوان کے درمیان تکرار ہوئی۔
رحمان ملک نے کہا کہ سرعام پھانسی کے بل کے ساتھ پہلے سے موجود آرڈیننس بھی بھجوائے جائیں گے۔ حکومت کو حق ہے کہ وہ کسی بھی بل کی مخالفت کرے۔
شہزاد وسیم کا موقف تھا کہ کورم پورا ہونے تک بل منظور نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے اگر بل ایسے ہی بل ڈوز کرنے ہیں تو کمیٹی کا ڈرامہ کیوں؟ جس کے بعد وہ احتجاجاً کمیٹی سے واک آؤٹ کرگئے۔









