ملازمین اور ٹی ایل پی سے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پی ڈی ایم سے کیوں نہیں؟

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن شوق سے لانگ مارچ کر لے لیکن این آر او نہیں ملے گا۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت حزب اختلاف کو سنجیدہ نہیں لی رہی جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے 26 مارچ کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ والوں نے خلافِ قانون کوئی قدم اٹھایا تو قانون حرکت میں آئے گا۔

حکومت نے اسلام آباد میں وفاقی ملازمین کے ساتھ کامیاب مذاکرات کر لیے۔ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ ہونے والی گفت و شنید بھی کامیاب رہی جس کا اعلان خود وزیر اعظم نے کیا ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کو تیار نہیں؟ جبکہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد (پی ٹی ایم) نے 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال دی ہوئی ہے۔

وزیراعظم کا موقف

وزیراعظم عمران نے حزبِ اختلاف سے مذاکرات کی بجائے اعلان کیا ہے کہ ‘اپوزیشن چاہے دھرنے دے یا لانگ مارچ کرے لیکن این آر او نہیں دیں گے۔’

وزیراعظم نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے اپنے غیر متزلزل بیان کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا کہ ‘کچھ بھی ہو جائے، حزبِ اختلاف سے مفاہمت نہیں ہوگی۔’

عمران خان نے کہا کہ ‘تمام بےروز گار سیاستدان اکٹھے ہوگئے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ سڑکوں پر نکل کر مجھے بلیک میل کرلیں گے۔ نواز شریف خود لندن میں بیٹھ کر کارکنوں کو باہر نکلنے کا کہہ رہے ہیں۔’

حزب اختلاف کی جماعتوں سے مذاکرات اور وفاقی وزیر داخلہ کا موقف

حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دینا تو دور کی بات ہے بلکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد حکومت مخالف جماعتوں کو دھمکی دے رہے ہیں کہ ‘اگر پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کرنا ہے تو شوق سے کریں۔ لانگ مارچ کے دوران خلاف قانون کوئی بھی اقدام اٹھایا گیا تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔’

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے ایک طرف سرکاری ملازمین کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے تو دوسری جانب انہوں نے تحریک لبیک کے موجودہ سربراہ کو بھی منا لیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت ہر اس شخص کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے جو اسلام آباد میں آکر بیٹھ جاتا ہے مگر اپوزیشن سے مذاکرات کی بجائے لانگ مارچ کی دعوت دیتی دکھائی دے رہی ہے؟

دوسری جانب حزب اختلاف کے ترجمانوں کی جانب سے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ اگر ہم اسلام آباد آگئے تو حکومتی نظام بیٹھ جائے گا۔

سینیئر تجزیہ کار امتیاز گل کا تجزیہ

پی ڈی ایم کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیاسی تجزیہ کار امتیاز گل نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘معاملات کے حل کے لیے حکومت پر ذمہ زیادہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ تمام بڑی جماعتوں پر بھی عوامی مفادات کا تحفظ کرنے کی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لیے کہ احتجاج کرنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ ہم کاروبار زندگی کو اکھاڑ پچھاڑ کر کے رکھ دیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘اس قسم کے احتجاج سے لوگوں کے روز گار متاثر ہوجاتے ہیں۔ مزدور طبقے کی دہاڑیاں نہیں لگ پاتی ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ سینیٹ انتخابات کے بعد حکومت اس حوالے سے پیش بندی کرتی ہے یا نہیں۔’

سیاسی کشیدگی کے نتائج پر سینیئر صحافی عنبر شمسی کا تجزیہ

حکومت کی جانب سے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد کے مذاکرات میں تاخیر پر تجزیہ کار عنبر شمسی نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس صورتحال سے کس طرح نمٹنا چاہتے ہیں یہ حکومت کی اپنی کوئی حکمت عملی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ حکومتی جماعت براہ راست محاذ آرائی مول نہیں لے سکتی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘اگر ابھی سختی اختیار کی تو اسکینڈل بن سکتا ہے اور صورتحال حکومت کے خلاف جاسکتی ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ البتہ احتجاج اگر مفادات کے آڑے آجاتا ہے تو عوام کے لیے مشکل کا سبب بنتا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘سیاسی تنازعات کا حل ایک دن کی بات چیت یا دوسرے دن گالم گلوچ سے نہیں ہوتا۔ اگر ہم سرکاری ملازمین کی بات کریں تو ان کے واضح مقاصد ہوتے ہیں۔ اس پر ہم ان سے کچھ وعدے کریں اور یقین دہانی کروائیں تو معاملات حل ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح تحریک لبیک اس حکومت میں کئی بار احتجاج کرچکی ہے۔ ان کے ساتھ بھی کچھ وعدے ہوئے ہیں اور معاملات ٹھنڈے ہوگئے تھے۔’

انہوں نے کہا کہ ‘جہاں تک پی ڈی ایم اور سیاسی مخالفین کی بات ہے تو حکومت کی کوشش رہی ہے کہ انہیں دیوار سے لگایا جائے۔ ان پر تنقید کی جارہی رہے تاکہ ان کے حوصلے پست ہوجائیں۔ پھر حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کرے گی جبکہ حکومت نے ماحول خود ہی ان کے خلاف کردیا ہو۔’

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کے معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف غیرسنجیدہ

اپوزیشن کی لانگ مارچ کی کال اور کرونا صورتحال

ایک جانب تو ملک میں کرونا وائرس کی صورتحال سنگین ہے تو دوسری طرف سیاسی تناؤ بھی شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ قوم کو درپیش صحت کے اس بحران سے دونوں طرف کے سیاسی قائدین کی لاتعلقی پریشان کن ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں سیاسی برتری کے آگے انسانی جان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔

متعلقہ تحاریر