کشمیر کے معاملے پر ٹی وی چینلز کے مالکان کی عدم دلچسپی
ٹی وی چینلز کے مالکان کو کشمیر سے متعلق اجلاس میں طلب کیا تھا مگر کسی چینل کے مالک یا نمائندے نے شرکت نہیں کی۔
کشمیر کے معاملے پر ٹی وی چینلز کے مالکان نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پارلیمانی کشمیر کمیٹی نے ٹی وی چینلز کے مالکان کو اجلاس میں طلب کیا تھا مگر کسی چینل کے مالک یا نمائندے نے شرکت نہیں کی۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چینلز مالکان کے آئندہ اجلاس میں نا آنے پر چیئرمین پیمرا کو کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین شہریار آفریدی نے میڈیا کی عدم دلچسپی سے متعلق کہا کہ ‘میڈیا مالکان کو آج کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی مگر وہ نہیں آئے۔’ انہوں نے چیئرمین پیمرا سے دریافت کیا کہ وہ بتائیں کہ میڈیا ہاوسز کے مالکان کیوں نہیں آئے؟
شہریار آفریدی نے نجی چینلز پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے تناظر میں پیمرا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا نجی ٹی وی چینلز کے مالکان اور ذمہ داران کو کمیٹی اجلاس میں بلایا نہیں گیا تھا؟ جس پر چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ انہوں نے تمام متعلقہ افراد کو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کے لیے لکھا تھا مگر وہ نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیے
کشمیر کے معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف غیرسنجیدہ
کشمیر کے معاملے پر میڈیا کی عدم دلچسپی سے متعلق چیئرمین کمیٹی نے دریافت کیا کہ کیا نجی میڈیا پر کشمیر کے حوالے سے کوئی پالیسی بنائی گئی ہے؟ جس پر چیئرمین پیمرا مناسب جواب نہ دے سکے۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ نے کمیٹی کو بریفنگ دینے کی تیاری ہی نہیں کی۔’
کمیٹی کے اراکان نے چیئرمین پیمرا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی چینلز کسی کے اختیار میں نہیں ہیں۔ کیا وہ انڈیا کے چینلز ہیں؟ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نجی چینلز کو بتانا ہوگا کہ انہوں نے کشمیر پر کیا پروگرام بنائے؟ انہیں آئندہ اجلاس میں لازمی آنا ہوگا اور نا آنے کی صورت میں کارروائی ہوگی۔
چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ‘نجی چینلز کشمیر سے متعلق پالیسی کو اجاگر کر رہے ہیں تاہم مالکان کی عدم حاضری پر نوٹسز جاری کروں گا۔ جن چینلز نے یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری کو سیاہ لوگو نہیں لگائے انہیں اظہار وجوہ نوٹسز بھیجے تھے۔’
شہریار آفریدی نے کہا کہ ‘مقبوضہ کشمیر میں انڈین فوج پیلٹ گنز استعمال کررہی ہے۔ ہماری جامعات اور کالجز کے طلباء کو پیلٹ گن کا معلوم ہی نہیں۔ 5 اگست کو پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ انڈین اداکار کی خودکشی تھی۔ چینلز پر ڈراموں میں بھابھی کا دیور کے ساتھ معاشقہ اور معلوم نہیں کیا کچھ چل رہا ہوتا ہے۔ عجیب و غریب ڈرامے چل رہے ہوتے ہیں جو افسوسناک عمل ہے۔ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (سی ایس آر) کے تحت نجی ٹی وی چینلز اور میڈیا ہاؤسز تنازع کشمیر، کشمیریوں کی حالت زار اور انڈیا کے جموں کشمیر پر غیرقانونی قبضے کو اجاگر کرنے کے پابند ہیں۔’

چیئرمین پیمرا نے کہا کہ انہوں نے 3 ڈراموں پر پابندی عائد کی مگر عدالت سے اجازت مل گئی۔ انہوں نے کہا کہ ‘نجی چینلز کشمیر سے متعلق مواد چلاتے ہوئے غلطی سے ڈرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں بنے بنائے پروگرام ملیں۔ وہ صرف سرکاری اداروں کا تیار کردہ مواد ہی چلاتے ہیں۔’
چیئرمین پیمرا نے تنازع کشمیر سے متعلق ٹیلی فلمز اور ڈراموں سے متعلق رپورٹ کے لیے وقت مانگ لیا۔ شہریار آفریدی نے چیئرمین پیمرا اور پی ٹی وی کو ہدایت کی کہ وہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں اب تک کی کارکردگی سے متعلق بھی تفصیلی بریفنگ دیں۔
ٹوئٹر کے علاقائی سربراہ جارج سلامہ نے متحدہ عرب امارات سے اجلاس میں آن لائن شرکت کی اور کمیٹی کو بتایا کہ ‘ٹوئٹر اوپن پبلک پلیٹ فارم ہے جو اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔ یہاں کسی کو تشدد پر اکسانے یا فروغ دینے کی اجازت نہیں ہے اور نفرت انگیز مواد پر مبنی اکاؤنٹس کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔’
شہریار آفریدی نے ڈس انفو لیب کے ذریعے انڈیا کی جانب سے ٹوئٹر ضوابط کے غلط استعمال کے بارے میں سوال کیا تو ٹوئٹر کے نمائندے نے کہا کہ ‘کشمیری عوام جائز معاملات پر آواز اٹھانے کے لیے آزاد ہیں۔’
انہوں نے ٹوئیٹر کی جانب سے پاکستانی اور کشمیر کے صارفین کی آگاہی کے لیے پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) کے تعاون سے ورکشاپ کے انعقاد کی بھی پیشکش کی۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ بدقسمتی سے ٹوئٹر کا دوہرا معیار ہے کیونکہ پاکستان میں نفرت اور تشدد بھڑکانے کے مقصد سے ٹوئٹ کرنے والے انڈین ایجنٹس کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔ مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں افراد کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کمپنی کے انڈین ملازمین کے زیر اثر بند کردیئے گئے ہیں۔
جارج سلامہ نے کہا کہ ‘ٹوئٹر نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی رکھتا ہے اور سب کو اظہار رائے کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔’
چیئرمین کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ ‘سوشل میڈیا کے دوہرے معیار پر ٹوئٹر کے نمائندے جارج سلامہ کو پاکستان بلایا جائے گا۔’ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ فیس بک اور ٹوئٹر کا پاکستان میں کوئی دفتر یا نمائندہ نہیں ہے تاہم جلد یہ سوشل میڈیا ادارے پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کر لیں گے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ‘ماضی میں فیس بک اور ٹوئٹر سے کشمیر کے بارے میں رابطہ نہیں رکھا گیا۔ افسوسناک صورتحال ہے کہ سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی آواز کو دبایا جاتا ہے اور اِس معاملے میں میڈیا کشمیر پر عدم دلچسپی ظاہر کرتا رہا ہے۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔’









