ڈویلپمنٹ اور فاریکس کے شعبوں سے مثبت خبریں

پاکستان میں 10 مارچ 2020 میں آخری بار ڈالر کی قیمت 158 روپے سے کم تھی۔

پاکستان میں ڈالر کی قیمت کم ہورہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیمنٹ کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں 10 مارچ 2020 میں آخری بار ڈالر کی قیمت 158 روپے سے کم ہوئی تھی۔ لیکن اب ڈالر اوپن مارکیٹ میں 157.95 روپے میں خریدا جاسکتا ہے۔

فاریکس ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سکریٹری ظفر پراچہ نےکا کہنا ہے کہ ’ڈالر کی شرح گرنے سے پتہ چل رہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران 2020 میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس جیسے متعدد اقدامات کا نتیجہ نکل رہا ہے۔‘

مالی سال 2020-21 میں جولائی سے جنوری تک سات ماہ میں ترسیلات زر 16.5 ارب ڈالرز رہیں جو گذ شتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ تھیں۔

گذشتہ ماہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے بھیجے جانے والی ترسیلات 500 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔

رواں مالی سال  کے پہلے 7 ماہ میں پاکستان کا موجودہ کھاتہ بھی قریب ایک ارب ڈالرز رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے خوشخبریاں

بی ایم اے کیپیٹل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سعد ہاشمی کا کہنا ہے کہ ڈالر کی شرح میں کمی کی وجہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی آمد ہے۔

 سعد ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ لوگ اب اسٹاک میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔  توقعات یہ ہیں کہ اب ڈالر کی شرح مارکیٹ میں 155 روپے اور 165 روپے کی حد میں رہے گی۔

فروری 2020 میں سیمنٹ کی فروخت 4.489 ملین ٹن رہی ہے۔ جبکہ فروری 2021 میں سیمنٹ کی فروخت میں 1.98 فیصد اضافے سے 4.577 ملین ٹن اضافہ ہوا ہے۔

آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (اے پی سی ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال فروری 2020 کے مقابلے فروری 2021 میں مقامی سیمنٹ کی ترسیلات میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے آٹھ مہینوں کے دوران ، سیمنٹ کی مجموعی فروخت (درآمدات اور برآمدات) 37.95 ملین ٹن رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران برآمد کی گئی 33.31 ملین ٹن سیمنٹ سے 13.92 فیصد زیادہ ہے۔

 پاکستان میں ڈالر کی قیمت 24 فیصد کم ہوئی ہے واہی پاکستان کے لیے ایک اور مثبت خبر سامنے آئی ہے کہ سیمنٹ کی فروخت میں 1.98 فیصدہ ہوا ہے۔

متعلقہ تحاریر