صحافی پیپلز پارٹی کے ہیں یا ن لیگ کے یا پھر پی ٹی آئی کے

نعمت خان نے نیوز360 سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پاکستان میں بہت سارے باصلاحیت اور تجربہ کار میڈیا ورکرز مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی طرح کام کرتے ہیں۔‘"

’یہاں پیپلز پارٹی کے صحافی ہیں، مسلم لیگ ن کے صحافی موجود ہیں، یا پھر وہ لوگ ہیں جو ہر صحیح و غلط میں عمران خان یا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کرتے ہیں۔‘ یہ الفاظ ہیں عرب نیوز کے کراچی میں نمائندے اور سابق جوائنٹ سکریٹری کراچی پریس کلب نعمت خان کے جو اکثر و بیشتر صحافتی معاملات پر لب کشائی کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں جانبدار صحافت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ملک میں صحافی تقسیم شدہ ہیں جو اپنے پیشے میں بے ایمانی کرتے ہیں اور تعصب کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں میڈیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ

نعمت خان سمجھتے ہیں کہ ’اس وقت جو معاملہ ملک میں سب سے زیادہ تشویش کا شکار ہے وہ سیاسی رپورٹنگ میں جانبداری ہے۔‘ اُن کے مطابق رپورٹنگ متوازن اور منصفانہ ہونے کی ضرورت ہے تاہم ملک میں زرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی پسند کی سیاسی جماعتوں کے بارے میں نا قابل فہم پیش گوئیاں کرتے ہیں اور اُس پر اُنہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔

نعمت خان نے نیوز360 سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’پاکستان میں بہت سارے باصلاحیت اور تجربہ کار میڈیا ورکرز مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی طرح کام کرتے ہیں۔‘”

اُن کا ایک ٹوئٹ اُس وقت سانے آیا جب پاکستان میں سینیٹ کے انتخاب میں اسلام آباد کی جنرل سیٹ پر حزب مخالف کے اُمیدوار کامیاب ہوگئے۔ اُس کے بعد ملک کے مختلف صحافیوں نے اُس پر اپنے اپنے انداز میں ٹوئٹس کیے۔ اُن ٹوئٹس میں حکومت پر طنز کیا جا رہا تھا یا پھر حزب اختلاف کے خلاف باتیں کی جا رہی تھیں۔  غرض جو صحافی جس سیاسی جماعت کو پسند کرتا تھا اُس کے بیانیے کے مطابق ٹوئٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کر رہا تھا۔

حکومت کسی بھی ریاست میں طاقت رکھتی ہے لہذا میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے لیکن پیشہ ور فرد اِس بات کا ذمہ دار ہوتا ہے کہ وہ حکومت اور حزب اختلاف میں توازن قائم رکھے اور غیر جانبدار رہے۔ اور موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر بھی اُسی غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا جائے۔

اُنہوں نے پاکستان جیسے ملک میں صحافیوں کے لئے کچھ معیار طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ آنے والے وقت میں صحافیوں کی ساکھ پر سوال نا کیے جائیں اور اُن کی بات پر یقین کیا جا سکے۔

متعلقہ تحاریر