برگر کنگ نے خواتین کو باورچی خانے تک محدود کردیا

برگر کنگ نے اخبار میں دیے گئے اشتہار، ٹوئٹ اور انسٹاگرام پر لکھا کہ ’خواتین کی جگہ باورچی خانے میں ہے‘۔

8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر برگر کنگ یو کے چیپٹر کے ٹوئٹ ’خواتین کی جگہ باورچی خانے میں ہے‘ نے پوری دنیا میں غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

برگر کنگ نے ایک اخبار میں اشتہار دیا جس میں لکھا گیا تھا کہ ’خواتین کی جگہ باورچی خانے میں ہے‘۔ یہی جملہ فوڈ چین نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا اور انسٹاگرام کی اسٹوری میں بھی شیئر کیا تھا۔

چند سوشل میڈیا صارفین نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر لکھے جانے والے اس جملے کے اسکرین شاٹ اور تصاویر لے لی تھیں۔ اس جملے نے لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا تھا جس پر سوشل صارفین نے ٹوئٹ حذف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

خواتین کی جگہ بارچی خانے میں ہے

یہ بھی پڑھیے

کرونا کی وبا کے دوران برگر کنگ کا انوکھا اقدام

سوشل میڈیا صارفین کی بےجا تنقید کے بعد برگر کنگ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس ٹوئٹ کو غلط سمجھا گیا ہے۔ ہم صرف ریسٹورنٹ کی صنعت میں خواتین شیفس کی کمی کی طرف اشارہ کرنا چاہتے تھے۔‘

  جب ایک صارف نے برگر کنگ سے پوچھا کہ ایسے عجیب ٹوئٹ کو  پوسٹ کرنے کی اجازت ادارے کے اعلی حُکام نے کیسے دے دی؟ تو برگر کنگ  نے مذید وضاحت کی کہ ’کیا یہ عجیب بات نہیں برطانیہ کی ریسٹورنٹ کی صنعت میں صرف 20 فیصد خواتین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برگر کنگ نے وضیفے شروع کیے ہیں تاکہ زیادہ خواتین اِس شعبے میں اپنا پیشہ ورانہ سفر جاری رکھ سکیں۔

تاہم وضاحت پیش کرنے کے تقریباً آدھا دن گزر جانے کے بعد برگر کنگ نے عوامی دباؤ کے بعد معافی مانگتے ہوئے ٹوئٹ کو حذف کردیا تھا۔

متعلقہ تحاریر