پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تنزلی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

رواں مالی سال کے 8 ماہ کے دوران غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 24.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) معاشی تنزلی کا شکار ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک میں غیریقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ رواں ہفتے حصص کے کاروبار میں 3 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی واقع ہوچکی ہے جبکہ اس وقت 100 انڈیکس 42 ہزار پوائنٹس سے اوپر ٹریڈ کررہا ہے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے آخری روز (12 مارچ 2021) کاروبار کا آغاز مندی سے شروع ہوا ہے۔ گذشتہ روز کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس میں 911 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی جس سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے تھے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 44 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد برقرار رکھنے میں ناکام رہا تھا۔

ابتدائی عوامی پیشکش

دوسری جانب بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والی ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ فروری کے مہینے میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 2 ارب ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر گذشتہ مالی سال کا آخری مہینہ جون بھی شامل کیا جائے تو یہ براہ راست 9واں مہینہ تھا جس میں ملک کو ترسیلات زر کی مد میں 2 ارب ڈالرز ملتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

اے کے ڈی سکیورٹیز اور اوانزا سولیوشنز کے درمیان معاہدہ

دنیا بھر میں جہاں کرونا وبا کی وجہ سے معیشت شدید دباؤ میں رہی وہیں پاکستان میں اس دوران معیشت پر اثرات مثبت دکھائی دیے۔ رواں مالی سال کے 8 ماہ کے دوران غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 24.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور پاکستان کو ترسیلات زر کی شکل میں 18 ارب 74 کروڑ ڈالرز موصول ہوئے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ

ادھر حکومت کی طرف سے مختلف اقسام کی مراعات کے اعلان کے باوجود ملک کی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں کمی سے تعبیر کررہے ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ مالی سال 2021-22 میں شرح نمو2 فیصد تک ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ تحاریر