کرونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر وفاق کا سخت پابندیوں کا اشارہ
این سی او سی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 10 فیصد رہی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے ملک بھر میں کرونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور کرونا کی تیسری لہر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے۔ حکومت نے کرونا سے بچاؤ کے لیے جو فیصلے کیے ہیں ان پر عوام اس طرح عمل نہیں کر رہی جس طرح ہونا چاہیے تھا۔ اسد عمر کے مطابق عوامی سطح پر غیر سنجیدگی کی وجہ سے پنجاب اور خیبرپختون خوا میں کرونا کیسز میں تیزی سے ہوا ہے۔
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرونا کیسز میں اضافے کی وجہ برطانوی کرونا وائرس کی قسم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ 5 روز کے دوران کرونا کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے جس کی وجہ سے اسپتالوں میں بستر نہ ملنے کی شکایات موصول ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مرکزی ، صوبائی اور علاقائی سطح پر ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو ایسی صورتحال بھی ہوسکتی ہے کہ ہمیں اس سے زیادہ سخت پابندیوں کی طرف جانا پڑے۔‘
اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 67 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 4 ہزار 460 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو 9 ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
نیشنل کنٹرول اینڈ آپریشن (این سی او سی) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 44 ہزار 279 کرونا ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 4 ہزار 460 افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔
واضح رہے کہ 22 جون 2020 کو کرونا کی پہلی لہر کے دوران ایک دن میں 4 ہزار 471 کرونا کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
طلباء کی وزیر تعلیم شفقت محمود سے رحم کی اپیل
این سی او سی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مثبت کیسز کی شرح 10 فیصد رہی۔
یاد رہے کہ 24 مارچ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) کے اجلاس کے بعد وفاقی وزارت تعلیم نے ملک کے مخصوص اضلاع میں 11 اپریل تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا تھا اور اُس وقت بھی کرونا کی احتیاطی تدابیر کو اختیار نا کرنے پر پابندیاں لگانے کا اشارہ دیا گیا تھا۔

این سی او سی کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ہم بیماری کی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں گے اور ہمیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ اسکول بند کرنے سے بچوں کی تعلیم کا نقصان ہوتا ہے لیکن صحت ہماری اولین ترجیح ہے اس پر خطرہ مول نہیں لے سکتے۔
دوسری طرف کرونا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ورلڈ بینک نے پاکستان کو 128 ملین ڈالرز کی امداد کی منظوری دی ہے۔ ورلڈ بینک کے حکام کے مطابق منظور ہونے والی امداد سے پاکستان میں جاری معاشی بحران کے خاتمے میں معاون اور مددگار ثابت ہوگی۔

ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نجی بے حسنی کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 وبا کے دوران پاکستان کے لاکھوں خاندان کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے پاس کوئی بچت نہیں ہوتی وہ روزانہ کی بنیاد پر کمائی کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اور ورلڈ بینک کی گرانٹ ان کی معاشی پریشانیوں میں کمی کا سبب بنے گی۔









