ٹیکسی ڈرائیور آصف حسین شاہ ’فار ہائر‘ کتاب کے مصنف
گوگل کے مطابق 10 سال سے بھی پہلے شائع ہونے والی کتاب کو پڑھنے والے 97 فیصد قارئین اسے پسند کرتے ہیں۔
پاکستان میں معاشی مسائل سے دوچار لوگوں کے سڑکوں پر مظاہرے اور خودکشی وغیرہ کے واقعات تو آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ملک میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے مسائل کو پس پشت ڈال کر صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک انسان پاکستان کے ٹیکسی ڈرائیور آصف حسین شاہ ہیں جو ایک کتاب ’فار ہائر‘ کے مصنف بھی ہیں۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ٹیکسی چلانے والے آصف حسین شاہ لکھنے کے شوقین ہیں۔ وہ گذشتہ 10 سال سے زیادہ عرصے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ 2007 میں ان کی ٹیکسی خراب ہوئی تھی جس کی مرمت کروانے کے لیے ان کے پاس رقم موجود نہیں تھی اور اس وجہ سے ان کی ٹیکسی تقریباً 8 ماہ تک ٹیکسی ورکشاپ میں کھڑی رہی تھی۔

ٹیکسی کی خرابی کے دوران آصف حسین کے لیے گھر کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوگیا تھا لیکن انہوں نے اس مشکل وقت میں کوئی منفی قدم اٹھانے کے بجائے کرائے پر ٹیکسی لے کر چلانی شروع کی اور ساتھ ساتھ ایک کتاب بھی لکھنا شروع کی۔ انہوں نے گذشتہ 10 سالوں میں مختلف سواریوں سے ہونے والی گفتگو کو کتابی شکل دی اور 120 صفحات پر مشتمل ان کی ’فار ہائر‘ نامی کتاب 2010 میں شائع ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے
کتابیں پڑھنا ملالہ یوسفزئی کے نئے سال کا ہدف
آصف حسین شاہ کی ٹیکسی پر ان کی کتاب کا عنوان اور پاکستان کا پرچم بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی تشہیر کے لیے ٹیکسی پر گوگل کا بھی ذکر کیا ہے کیونکہ اُن کی کتاب یا خود اُنہیں گوگل پر باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔

آصف حسین شاہ کی کتاب کو پاکستان کے معروف پبلشر فیروز سنز نے شائع کیا تھا تاہم 10 سال سے زیادہ کا عرصہ گرنے کے بعد بھی گوگل کے مطابق ان کی کتاب کو پڑھنے والے 97 فیصد قارئین اسے پسند کرتے ہیں۔









