مارس ہیلی کاپٹر انجینونیٹی کی مریخ پر پہلی کامیاب پرواز
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے کے مطابق خلائی جہاز پرسیورینس روور اور ہیلی کاپٹر انجینیٹی کو مریخ پر بھیجنے کا مقصد زندگی کے ممکنہ آثار تلاش کرنا ہے۔
رواں برس امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کی جانب سے ’پرسیورینس روور‘ کے ساتھ مریخ پر اتارے جانے والے ’انجینونیٹی‘ نامی مارس ہیلی کاپٹر نے اپنی پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔
انجینونیٹی سے زمین پر بھیجی جانے والی تصاویر اور ڈیٹا سے پرواز کی تصدیق ہوئی ہے۔ ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے ایک انجینیئر نے اعلان کیا کہ ’بلندی ناپنے والے آلے کی مدد سے تصدیق کی گئی ہے کہ ہیلی کاپٹر نے پہلی کامیاب پرواز کی ہے۔
ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ’مارس ہیلی کاپٹر انجینونیٹی پہلا ہیلی کاپٹر بن گیا ہے جس نے مریخ کی فضاؤں میں اڑان بھری ہے۔
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ’ناسا‘ خلا کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے اب تک متعدد خلائی جہاز خلا میں بھیج چکا ہے۔
پرسیورینس روور اور انجینونیٹی مریخ پر پہنچنے والے مشن ’مارس 2020‘ کے اہم ترین حصے ہیں۔ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے کے مطابق اس مشن کا مقصد مریخ پر زندگی کے ممکنہ آثار کی تلاش ہے۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی خلائی مشن پرسیویرنس نے مریخ کی ابتدائی تصاویر ٹوئٹ کردیں
6 پہیوں والا پرسیورینس روور روبوٹ کم از کم 2 سال تک مریخ میں موجود پتھروں میں ڈرلنگ کر کے ماضی میں یہاں زندگی کی موجودگی کے آثار اکٹھے کرے گا۔ ہیلی کاپٹر انجینونیٹی پرسیورینس روور کے نچلے حصے میں محفوظ کرکے رکھا گیا تھا، جس کو چند روز قبل مریخ کی سطح پر اتارا گیا ہے۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انجینونیٹی کے لیے مریخ کی فضاؤں میں اُڑنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا کیونکہ مریخ کا کرہ ہوائی، ہمارے زمینی کرہ ہوائی کے مقابلے میں 10 گنا ہلکا ہے جبکہ مریخ کی کششِ ثقل بھی زمینی کشش سے 3 گنا کم ہے۔
ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انجینونیٹی کی پرواز میں تاخیر کی وجہ ہماری احتیاط ہے۔ کیونکہ مریخ پر انجینونیٹی کی پرواز جتنی زیادہ کامیاب ہوگی اتنی ہی یہ خلائی تحقیق کے میدان بڑی کامیابی ہو گی۔
ناسا جیٹ پرویلشن لیبارٹری (جے پی ایل) کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر ایجینیٹی کی کارکردگی کا اصل پتا اس وقت چلے جب یہ رات کو سفر کرے گا کیونکہ مریخ کا ماحول انتہائی سرد ہے اور رات کے وقت اس کا درجہ حرارت منفی 90 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔
ناسا حکام کے مطابق پرواز سمیت دوسرے کاموں کےلیے انجینونیٹی میں ایک بیٹری نصب ہے جو صرف 237 گرام وزنی ہے اور 350 واٹ تک بجلی فراہم کرسکتی ہے۔ بیٹری چارج کرنے کے لیے انجینونیٹی میں شمسی پینل نصب ہیں، تاہم اس بیٹری کو پہلی بار پرسیویرینس روور کے ذریعے مکمل چارج کیا گیا ہے۔
جے پی ایل کے مطابق موٹرز اور حساس سینسرز کی چیکنگ کے بعد انجینونیٹی اپنی پہلی آزمائشی پرواز کرے گا، جس میں وہ تقریباً 3 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے اوپر اٹھتے ہوئے 10 فٹ کی بلندی تک پہنچے گا اور لگ بھگ 30 سیکنڈ تک ہوا میں معلق رہنے کے بعد آہستگی سے مریخ کی سطح پر واپس اتر جائے گا۔ پرواز کے دوران وہ اپنے اردگرد کے ماحول کی ہائی ریزولیوشن تصویریں بھی کھینچے گا۔

جے پی ایل کے مطابق انجینونیٹی اگلے ماہ تک مزید 5 آزمائشی پروازیں کرے گا۔ ان آزمائشی پروازوں سے حاصل ہونےوالے نتائج کو دیکھتے ہوئے ماہرین یہ فیصلہ کریں گے کہ انجینونیٹی مریخ پر مزید کیا کام سرانجام دے سکتا ہے۔
ہیلی کاپٹر انجینیٹی کے خواص
مارس ہیلی کاپٹر انجینونیٹی صرف 1 اعشاریہ 8 کلوگرام وزنی ہے۔ انجینیٹی کے چوکور ڈبے جیسے مرکزی حصے کی لمبائی 7 اعشاریہ 7 انچ، چوڑائی 6 اعشاریہ 4 انچ اور موٹائی 5 اعشاریہ 4 انچ ہے۔
مریخ کی سطح پر اُترنے کےلیے اس میں 4 ٹانگیں نصب کی گئی ہیں جو کاربن فائبر ٹیوبز سے تیار کی گئی ہیں۔ ان کی لمبائی 15 اعشاریہ 1 انچ ہے۔
انجینونیٹی میں اوپر تلے 2 پنکھے نصب ہیں ،ان سب کی چوڑائی 4 فٹ ہے۔اس کی 273 گرام وزنی بیٹری 350 واٹ تک بجلی پیدا کرسکتی ہے۔ بیٹری کو ری چارج کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر میں سب سے اوپر ایک شمسی پینل لگایا گیا ہے۔









