ڈاکٹر یاسمین راشد کی کرونا اور کینسر سے بیک وقت لڑائی

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر میں مبتلا ہونے کے باوجود کرونا کے خلاف خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد جہاں پنجاب بھر کی بیماریوں اور طبعی نظام کی بہتری کے لیے کوشاں رہتی ہے وہیں وہ خود بھی کینسر جیسی مہلک بیماری سے مقابلہ کر رہی ہے۔

پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی اس وقت کرونا کی وباء سے لڑ رہا ہے وہیں ڈاکٹر یاسمین راشد مضبوط اعصاب سے بریسٹ کینسر میں مبتلا ہونے کے باوجود اس عالمی وباء کے دوران اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان مختلف مواقع پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزداری کی کارکردگی کے معترف رہے ہیں حالانکہ انہیں اپنی تعریفوں کے الفاظ ڈاکٹر یاسمین راشد کے نام کرنے چاہئیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد بریسٹ کینسر میں مبتلا

اس وقت وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد بریسٹ کینسر کی بیماری سے لڑ رہی ہیں اور ان کی کیموگرافی کا کورس تاحال جاری ہے۔ بریسٹ کینسر کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد ان کا آپریشن دسمبر 2020 کے دوسرے ہفتے میں شوکت خانم میموریل اسپتال میں کیا گیا تھا جہاں ان کی سرجری کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب حکومت کی کرونا سے بچاؤ کے لیے مذید پابندیاں

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی سرجری شوکت خانم اسپتال میں ڈاکٹر آمنہ نے کی تھی جو کامیابی سے مکمل کی گئی تھی۔ جبکہ سرجری کے بعد صوبائی وزیر کی حالت بہتر بتائی گئی تھی۔ کچھ روز تک انہیں مکمل آرام کا بھی مشورہ دیا گیا تھا جس کے بعد بتایا گیا تھا کہ وہ تیزی سے صحتیاب ہورہی ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد سے نیوز 360 نے طبعیت سے متعلق جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ذرائع سے معلوم ہوا کہ اب ان کی حالت پہلے سے بہت بہتر ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہر ہفتے کیموگرافی  ہوتی ہے۔ ان کی سرجری کے بعد اب تک 10 کیموگرافی ہوچکی ہیں جبکہ 2 ہونا ابھی باقی ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد
Dunya News

پنجاب جیسے بڑے صوبے میں صحت کے مسائل ہیں جیسے کرونا، ڈینگی، پولیو، ہپاٹائٹس وغیرہ۔ اس کے علاوہ صوبے کے ہیلتھ ورکرز، ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے مسائل ہونے کے باوجود خاتون وزیر اپنی کینسر جیسی مہلک بیماری سے مقابلے کے ساتھ ساتھ صوبے کی بیماریوں اور مسائل سے مقابلہ کر رہی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کبھی انسداد کرونا اجلاس اور کبھی پریس کانفرنس میں نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد لاہور کی سیاست میں کیسے مقبول ہوئیں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد پیشے کے اعتبار سے گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر ہیں۔ ان کی مقبولیت لاہور کی سیاست میں تب ہوئی جب انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے مقابلے میں 2013 میں تحریک انصاف کی جانب سے انتخاب لڑا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے اسی حلقے (این اے 125) سے 2018 میں وحید عالم خان کے مقابلے میں انتخاب لڑا مگر ناکام رہیں۔ وہ پنجاب کی خواتین مخصوص نسشت میں نام ہونے کی وجہ سے رکن پنجاب اسمبلی بنیں اور صوبے کی اہم وزارت صحت کا قلمدان سنبھالا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد
Dawn

خاتون اول کا بریسٹ کینسر کے حوالے سے اہم بیان

اس سلسلے میں ماضی میں خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ خواتین میں چھاتی کا کینسر اس لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ اس کا بروقت علاج نہیں کرایا جاتا۔ اگر بروقت علاج ہوجائے تواس میں اخراجات کی کمی کے ساتھ اموات کی شرح میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین اس مرض کو اپنے گھر والوں سے بھی چھپاتی ہیں جس سے یہ مرض بڑھ جاتا ہے اور پھر اس کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 90 ہزار خواتین کو چھاتی کا کینسر ہوجاتا ہے جس میں سے 17 ہزار صحتیاب ہو جاتی ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں اس مرض میں مبتلا مریضوں کی شرح زیادہ ہے۔

ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آگاہی کی کمی ہے۔ اس کے لیے ہماری این جی اوز اور دیگر فلاحی ادارے اس مرض کی آگاہی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ اور میگزین نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر میں اضافے کی شرح دنیا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت اس مرض کی آگاہی کے لیے بہت تعاون کر چکا ہے۔ بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا مریضوں کی اموات کی شرح زیادہ ہو جاتی ہے۔ اگر اس مرض کی ابتدائی مراحل میں تشخیص ہوجائے تو 98 فیصد خواتین کو اس بیماری سے بچایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر