بل گیٹس کی کرونا ویکسین کا فارمولا بانٹنے کی مخالفت

بل گیٹس کا کہنا ہے کہ غریب ممالک کے پاس صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین بنا سکیں۔

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے فارمولے کو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ با نٹنے کرنے کی مخالفت کی ہے۔

برطانوی نیوز چینل اسکائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے کہا ہے کہ دنیا میں ویکسین کی بہت کم لیبارٹریز موجود ہیں اور عوام کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کے بارے میں فکرمند ہیں۔ اگر حق ایجاد کی سند (پیٹنٹ) سے پابندی ختم بھی کردی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوںکہ غریب ممالک کے پاس صلاحیت موجود نہیں ہے کہ وہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین بنا سکیں۔

ان کے مطابق اگر ایسا ہو بھی گیا تو ان ممالک میں ویکسینز بنانے کے عمل پر نگرانی اتنی سخت نہیں ہے کہ اس کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔

بل گیٹس نے مزید کہا کہ امریکا اور برطانیہ میں 30 سال کی عمر کے افراد کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جارہی ہے جبکہ برازیل اور جنوبی افریقہ میں 60 سال کی عمر کے افراد کے لیے بھی ویکسین موجود نہیں ہے۔ بہت جلد کرونا سے بچاؤ ویکسین ان ممالک کو مل جائے گی جہاں کیسز کی تعداد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جعلی فائزر ویکسین کی فروخت کا انکشاف

اس انٹرویو کے بعد بل گیٹس پر کافی تنقید کی جانے لگی ہے۔ ادھر بل گیٹس کا پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے آج ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں کرونا کی وباء سے متعلق بات ہوئی۔

واضح رہے کہ ماہرین صحت نے تجویز پیش کی تھی کہ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی حق ایجاد کی سند (پیٹنٹ) سے پابندی کو ختم کیا جائے۔ گذشتہ ہفتے مختلف ممالک کے سربراہان نے امریکی صدر جو بائیڈن کو خط لکھا تھا جس میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی پیٹنٹ کی پابندی ختم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

متعلقہ تحاریر