این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں کانٹے کے مقابلے کی توقع
حلقے میں آج تعطیل ہوگی اور 3 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 میں ضمنی انتخاب آج ہورہا ہے۔ اس حلقے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، مسلم لیگ (ن)، پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) اور کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 میں جمعرات کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل، پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال، پیپلزپارٹی کے قادر خان مندوخیل اور پی ٹی آئی کے امجد آفریدی سمیت 30 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے
ضمنی انتخاب میں کالعدم جماعت کے حصہ لینے پر الیکشن کمیشن خاموش
حلقہ این اے 249 میں بلدیہ ٹاؤن، اتحاد ٹاؤن، سعید آباد اور رشید آباد سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔ حلقے میں آج تعطیل ہوگی اور 3 لاکھ سے زیادہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
سروے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل، تحریک انصاف کے امجد آفریدی اور ٹی ایل پی کے امیدوار نذیر احمد کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ جبکہ مفتاح اسماعیل، امجد آفریدی اور مصطفیٰ کمال کی انتخابی مہم زبردست سمجھی جارہی ہے۔
حلقے کے عوام کا کہنا ہے کہ ’ووٹ اسی امیدوار کو دیں گے جو علاقے کے بنیادی مسائل حل کرے گا۔‘
حلقے این اے 249 کی یہ نشست پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واؤڈا کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ 2018 کے انتخاب میں فیصل واؤڈا نے شہباز شریف کو کانٹے دار مقابلے کے بعد اسی نشست پر شکست دی تھی۔ جبکہ ٹی ایل پی نے بھی 23 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے جو اس وقت کالعدم قرار نہیں دی گئی تھی۔
بلدیہ کے بنیادی مسائل
عوام کا کہنا ہے کہ ’حلقے میں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور پانی کی فراہمی بنیادی مسائل ہیں۔ صحت کے حوالے اس حلقے میں سرکاری اسپتال نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ووٹ لے کر جانے والے اس حلقے میں واپس نہیں آتے جبکہ ضمنی انتخاب کا اعلان ہوتے ہی ہمدرد بن کر آتے ہیں اور ووٹ لینے کے بعد غائب ہوجاتے ہیں۔ اس حلقے میں کئی مسائل ہیں لیکن کوئی سیاسی جماعت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔‘
ضمنی انتخاب کے لیے انتظامات
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے این اے 249 میں ضمنی انتخاب کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ ساڑھے 3 لاکھ بیلیٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔ حلقے کے کل 276 پولنگ اسٹیشنز میں سے 75 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں ریجنل الیکشن کمشنر کراچی/ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کورنگی/ ریٹرننگ آفیسر این اے 249 کراچی غربی، ریجنل الیکشن کمشنر شہید بے نظیر آباد/ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر، صوبائی گورنمنٹ کے متعلقہ سیکریٹریز، رینجرز کے حکام، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں این اے 249 کراچی غربی۔II میں ضمنی انتخاب کے انعقاد کے لیے حتمی انتظامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے کہا کہ ’ضمنی انتخاب میں حق رائے دہندگان کی کُل تعداد 3 لاکھ 39 ہزار 952 ہے جس میں مرد رائے دہندگان 2 لاکھ 1 ہزار 842 جبکہ خواتین رائے دہندگان 1 لاکھ 38 ہزار 110 ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’276 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں اور اِن پولنگ اسٹیشن میں 796 پولنگ بوتھ ہیں جن میں مردوں کے 458 اور خواتین کے 338 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
این اے 249 میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ حریف بن گئے؟
الیکشن کمشنر سندھ نے کہا کہ ’سکیورٹی کے حوالے سے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انتخابی حلقے کی سکیورٹی کی حساسیت کے حوالے سے رینجرز کی پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعیناتی کردی گئی ہے۔ پولنگ اسٹیشنز پر بنیادی سہولیات، پانی، بجلی، واش روم اور معذور افراد کے لیے ریمپ کی سہولیات کو یقینی بنایا ہے۔‘
انہوں نے ہدایت کی کہ پولنگ اسٹیشن کی صفائی و ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔ پُرامن اور شفاف انتخاب کے انعقاد کے لیے تمام اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
اعجاز انور چوہان نے مزید کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان محترم سکندر سلطان راجہ کی واضح ہدایات ہیں کہ انتخاب کے انعقاد کے دوران کووڈ 19 سے بچاؤ کی ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ضمنی انتخاب کے متعلقہ اسٹاف ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال لازمی کریں اور سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے۔‘









