پاکستان اور انڈیا کے نیوز چینلز پر انتخابات ان کرونا آؤٹ
انڈین صحافیوں نے اپنے نیوز چینلز کو غیر ذمہ داری کا ثبوت دینے پر آڑے ہاتھوں لیا۔

پاکستان اور انڈیا کی میڈیا انڈسٹری کرونا وبا کی سنگین صورتحال سے زیادہ انتخابات کو ترجیح دیتی ہے۔ دونوں طرف انتخابات کیا ہوئے صحافی کرونا کو ہی بھلا بیٹھے۔ انڈیا کے چند نامور صحافیوں نے تو پھر بھی اپنے نیوز چینلز کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن پاکستانی صحافیوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
پاکستان اور انڈیا میں کرونا نے اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں لیکن افسوس ان دونوں ممالک کے میڈیا کو وبا سے زیادہ انتخابات اہم لگتے ہیں۔
انڈیا میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد وائرس کا شکار ہورہے ہیں اموات میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ لیکن، گذشتہ روز انڈین نیوز چینلز ریاست مغربی بنگال کے انتخابات کو اہمیت دیتے رہے اور پورا دن اسی کی نشریات چلتی رہیں۔ کسی چینیل نے نتائج سب سے پہلے نشر کرنے میں بازی لی تو کوئی اپنی تجزیہ کاروں کی فوج پر فخر کرتا رہا۔
Poll dates of 4 States & 1 UT announced.
Result Day – May 2 with TIMES NOW.
Mandate 2021 – Catch the pulse only on TIMES NOW.
Stay tuned to India’s election news headquarters. | #May2WithTimesNow pic.twitter.com/MnXl4Y1dUZ
— TIMES NOW (@TimesNow) April 30, 2021
یہ بھی پڑھیے
کرونا کے معاملے میں پاکستان کو انڈیا سے سبق سیکھنا چاہیے
سیاسی جماعتوں کی ہار اور جیت سے متعلق رسہ کشی میں انڈین چینلز یہ بھلا بیٹھے کہ ان سب سے زیادہ ضروری اس وبا کے بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے جس نے انڈیا میں اب تک 31 لاکھ سے زیادہ افراد کی جان لے لی ہے۔
What are the big takeaways from the #IndiaTodayExitPoll? @PradeepGuptaAMI, @sardesairajdeep & @RahulKanwal share their views. pic.twitter.com/49RyiosMwo
— IndiaToday (@IndiaToday) April 29, 2021
مشہور انڈین صحافی برکھا دت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں شہریوں کو آکسیجن کے لیے تڑپتے دیکھا جاسکتا ہے۔ برکھا دت نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ ہمارے میڈیا کو اگر انتخابات سے فرصت مل گئی ہو تو اس گوردوارے کے آکسیجن لنگر پر نظر ڈالیں جس کے بارے میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ یہاں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
If we’re done with the banality of Exit Polls-this is a portrait of India Gasping at an Oxygen ‘Langar’ at a Gurudwara one hour from the capital on a day when we were told there is no shortage of Oxygen. My ground report for @themojostory. Trigger Warning: Visuals are Disturbing pic.twitter.com/oeicYKL4qk
— barkha dutt (@BDUTT) April 29, 2021
انڈین صحافی راج دیپ سردیسائی نے ٹوئٹ میں لکھا کہ انتخابی دنگل کوئی بھی جیتے لیکن شہریوں کا کوویڈ کی جنگ جیتنا لازمی ہے۔
Exit polls done and dusted: may whoever the voters want win on Sunday. We will return to the reality of the Covid count. Netas will win and lose election battles, citizens need to win this Covid ‘war’! Stay well, stay safe everyone! 🙏
— Rajdeep Sardesai (@sardesairajdeep) April 29, 2021
صحافی رانا ایوب نے ٹوئٹر پیغام میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا میں کرونا سے روزانہ ہزاروں افراد مر رہے ہیں لیکن ہمارے نیوز چینلز کو ایگزٹ پولز کی نشریات دکھانے سے فرصت نہیں مل رہی۔
When thousands of Indians are dying everyday, did Indian news channels really need breathless exit polls coverage. You guys are sick !
— Rana Ayyub (@RanaAyyub) April 29, 2021
دوسری جانب پاکستان میں کرونا وبا نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ کیسز بھی بڑھتے جارہے ہیں لیکن گذشتہ روز کراچی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخابات کے موقعے پر پورا دن نیوز چینلز پر خصوصی نشریات دکھائی گئیں۔ کس سیاسی جماعت نے کتنے ووٹ لیے؟ کون جیتا ؟ کون ہارا؟ اسی پر بحث و مباحثے چلتے رہے۔
حیران کن بات تو یہ ہے کہ انڈیا میں صحافیوں نے اپنے نیوز چینلز کو غیر ذمہ داری کا ثبوت دینے پر آڑے ہاتھوں لیا لیکن ہمارے ملک کے کسی ایک صحافی نے بھی نیوز چینلز کو انتخابی نشریات دکھانے پر تنقید نہیں کی نہ ہی سوشل میڈیا پر اس کے خلاف کوئی آواز اٹھائی گئی۔









