پاکستان اور انڈیا کے نیوز چینلز پر انتخابات ان کرونا آؤٹ

انڈین صحافیوں نے اپنے نیوز چینلز کو غیر ذمہ داری کا ثبوت دینے پر آڑے ہاتھوں لیا۔

پاکستان اور انڈیا کی میڈیا انڈسٹری کرونا وبا کی سنگین صورتحال سے زیادہ انتخابات کو ترجیح دیتی ہے۔ دونوں طرف انتخابات کیا ہوئے صحافی کرونا کو ہی بھلا بیٹھے۔ انڈیا کے چند نامور صحافیوں نے تو پھر بھی اپنے نیوز چینلز کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن پاکستانی صحافیوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔

پاکستان اور انڈیا میں کرونا نے اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں لیکن افسوس ان دونوں ممالک کے میڈیا کو وبا سے زیادہ انتخابات اہم لگتے ہیں۔

انڈیا میں روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد وائرس کا شکار ہورہے ہیں اموات میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ لیکن، گذشتہ روز انڈین نیوز چینلز ریاست مغربی بنگال کے انتخابات کو اہمیت دیتے رہے اور پورا دن اسی کی نشریات چلتی رہیں۔ کسی چینیل نے نتائج سب سے پہلے نشر کرنے میں بازی لی تو کوئی اپنی تجزیہ کاروں کی فوج پر فخر کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

کرونا کے معاملے میں پاکستان کو انڈیا سے سبق سیکھنا چاہیے

سیاسی جماعتوں کی ہار اور جیت سے متعلق رسہ کشی میں انڈین چینلز یہ بھلا بیٹھے کہ ان سب سے زیادہ ضروری اس وبا کے بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنا ہے جس نے انڈیا میں اب تک 31 لاکھ سے زیادہ افراد کی جان لے لی ہے۔

مشہور انڈین صحافی برکھا دت نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں شہریوں کو آکسیجن کے لیے تڑپتے دیکھا جاسکتا ہے۔ برکھا دت نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ ہمارے میڈیا کو اگر انتخابات سے فرصت مل گئی ہو تو اس گوردوارے کے آکسیجن لنگر پر نظر ڈالیں جس کے بارے میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ یہاں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

انڈین صحافی راج دیپ سردیسائی نے ٹوئٹ میں لکھا کہ انتخابی دنگل کوئی بھی جیتے لیکن شہریوں کا کوویڈ کی جنگ جیتنا لازمی ہے۔

صحافی رانا ایوب نے ٹوئٹر پیغام میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا میں کرونا سے روزانہ ہزاروں افراد مر رہے ہیں لیکن ہمارے نیوز چینلز کو ایگزٹ پولز کی نشریات دکھانے سے فرصت نہیں مل رہی۔

دوسری جانب پاکستان میں کرونا وبا نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ کیسز بھی بڑھتے جارہے ہیں لیکن گذشتہ روز کراچی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخابات کے موقعے پر پورا دن نیوز چینلز پر خصوصی نشریات دکھائی گئیں۔ کس سیاسی جماعت نے کتنے ووٹ لیے؟ کون جیتا ؟ کون ہارا؟ اسی پر بحث و مباحثے چلتے رہے۔

حیران کن بات تو یہ ہے کہ انڈیا میں صحافیوں نے اپنے نیوز چینلز کو غیر ذمہ داری کا ثبوت دینے پر آڑے ہاتھوں لیا لیکن ہمارے ملک کے کسی ایک صحافی نے بھی نیوز چینلز کو انتخابی نشریات دکھانے پر تنقید نہیں کی نہ ہی سوشل میڈیا پر اس کے خلاف کوئی آواز اٹھائی گئی۔

متعلقہ تحاریر