اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی کی اسپتال میں توڑ پھوڑ

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی صورت میں کرونا کا علاج اور ایمرجنسی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں اراکین صوبائی اسمبلی بلاول آفریدی اور نگہت اورکزئی نے توڑ پھوڑ کی ہے۔ دونوں اراکین اسمبلی نے جاں بحق ہونے والے بچے کے اہل خانہ کو طبی عملے پر تشدد پر بھی اکسایا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں زمینی تنازعے پر دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے دوران ایک بچے کے سر پر گولی لگ گئی۔ زخمی بچے کو طبی امداد کے لیے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا تاہم سر پر گولی لگنے کی وجہ سے وہ جاں بحق ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے

خیبرپختونخوا میں سینیما گھروں پر تالے لاکھوں کا نقصان

اس واقعے کے بعد خیبرپختونخوا کے رکن اسمبلی بلاول آفریدی اور نگہت اورکزئی اسپتال پہنچے جہاں انتظامیہ، ڈائریکٹر اور ڈاکٹرز کو زد و کوب کیا اور اسپتال کے املاک کو نقصان پہنچایا۔ دونوں اراکین صوبائی اسمبلی نے ڈیوٹی پر مامور لیڈی ڈاکٹرز کو ہراساں کیا اور گالیاں دیں۔ جبکہ اسپتال کے ایمرجنسی گیٹ پر دھاوا بول کر اسے بند کردیا اور سیکڑوں مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں بلاول آفریدی نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کردی ہے۔

ادھر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) نے ہنگامی اجلاس میں اسپتال کے الیکٹیو سروسز اور او پی ڈیز بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ حکومت کو آج دوپہر 12 بجے تک کی ڈیڈلائن دی ہے کہ اگر واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو کرونا کا علاج اور ایمرجنسی آپریشن بند کردیں گے جس کی ساری ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے وائی ڈی اے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے تمام مطالبات کی حمایت ہے اور مطالبات نہ ماننے کی صورت میں صوبے بھر میں احتجاج کی کال بھی دی جاسکتی ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ ہم نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ ہم اپنے ڈاکٹرز اور میڈیکل کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کے 2 ممبران صوبائی اسمبلی کی ایماء پر اسپتال میں تشدد اور توڑپھوڑ افسوسناک ہے۔ قانون سازوں کے ہاتھوں قانون کی دھجیاں اڑانا عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کرونا کی وباء کے خلاف برسرپیکار ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانا حزب اختلاف کے اصل عوام دشمن عزائم بے نقاب کرتا ہے۔ مشکل کی گھڑی میں دکھی انسانیت کے خلاف سرگرم مسیحا قوم کے ہیرو ہیں اور کسی کو ان کی زندگیوں اور توقیر سے کھیلنے نہیں دیں گے۔‘

کامران بنگش نے مزید کہا کہ اسپتال میں طبی عملے پر تشدد کرونا کی وباء کے خلاف جنگ میں شہید مسیحاؤں کی قربانیوں کی توہین ہے۔ قوم دن رات جمہوریت اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے والے رہنماؤں کی جانب سے اپنے اراکین صوبائی اسمبلی کے کرتوت پر کارروائی کی منتظر ہے۔ کوئی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ واقعہ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر