پاکستان ریلوے کو ایک کھرب 19 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان

موجودہ دور حکومت میں پاکستان ریلوے کو مجموعی طور پر 1 کھرب 19 ارب  سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

حکومت پاکستان کے تمام تر دعووں کے باوجود محکمہ ریلوے کی قسمت نہیں بدل سکی۔ اہم قومی ادارہ مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے۔ سی پیک کا اہم حصہ ہونے کے باوجود موجودہ دور حکومت میں پاکستان ریلوے کو مجموعی طور پر 1 کھرب 19 ارب  سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

پاکستان ریلوے نے آئندہ مالی سال 22-2021 کے لیے 126 ارب 12 کروڑ روپے کا آپریشنل بجٹ مانگ لیا ہے۔ ریلوے وفاقی اور صوبائی محکموں سے 9 ارب 89 کروڑ روپے واجبات وصول کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے لیوی میں کمی

پاکستان ریلوے کو 1 کھرب 19 ارب کا خسارہ

محکمہ ریلوے کے ذرائع کے مطابق 2018-19 میں ریلوے کو 32 ارب 76 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔ 2019-20 میں ادارے کو 50 ارب 15 کروڑ روپے سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ جبکہ رواں مالی سال کے 10 ماہ میں ریلوے کو 36 ارب 28 کروڑ روپے کے خسارہ کا سامنا رہا ہے۔

36 ٹرینیں بند، تعداد 84 رہ گئی

گذشتہ 2 سال میں ٹرینوں کی تعداد 120 سے کم ہو کر 84 رہ گئی ہے۔ آپریشن خسارے میں اضافے کے سبب اپ اینڈ ڈاون 36 ٹرینیں بند کی گئیں۔ کرونا کی وباء کے باعث آپریشن لاسز میں اضافہ ہوا۔ وزارت ریلوے کے ذرائع کے مطابق ٹرینوں کے خسارے میں چلنے کے سبب ٹرینوں کی تعداد میں کمی لائی گئی۔

15 ٹرینیں ٹھیکے پر دینے کا فیصلہ

وزارت ریلوے کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تجارتی فوائد کے لیے 15 مسافر ٹرینیں ٹھیکوں پر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے پیشکشیں بھی طلب کرلی گئی ہیں۔

سرکاری محکمے 9 ارب 89 کروڑ کے نادہندہ

محکمہ ریلوے کو کئی برس سے شدید مالی خسارے کا سامنا ہے مگر اس کے باوجود وفاقی، صوبائی محکمے اور نجی اداروں کے محکمہ ریلوے کے 9 ارب 89 کروڑ ناہندہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس کے باوجود ریلوے انتظامیہ کی جانب سے وصولی پر کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی جاسکی۔

پاکستان ریلوے

محکمہ ریلوے کے ذرائع کے مطابق وفاقی ادارے پاکستان ریلوے کے 1 ارب 17 کروڑ 21 لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں۔ صوبائی محکموں کے ذمہ 2 ارب 44 کروڑ 42 لاکھ روپے واجب الادا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جبکہ نجی ادارے پاکستان ریلوے کے 6 ارب 27 کروڑ کے نادہندہ ہیں۔

محکمہ دفاع نے ریلوے کے 95 کروڑ روپے ادا کرنے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذمہ ریلوے کے 5 کروڑ 54 لاکھ، پاکستان پوسٹ کے ذمہ 3 کروڑ 75 لاکھ واجب الادا ہیں۔ جبکہ پوسٹ ماسٹر جنرل کے ذمہ 6 کروڑ 48 لاکھ، اسٹیٹ بینک کے ذمہ 3 کروڑ 82 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ صوبائی خوراک کے محکموں نے ریلوے کے 75 کروڑ 91 لاکھ اور صوبائی ہائی ویز کے ذمہ ریلوے کے 1 ارب 49 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

ٹھیکے پر چلنے والی ٹرینوں کے ٹھیکے دار بھی نادہندہ

پی ایس او نے 2 ارب ریلوے کو ادا کرنے ہیں اور یہاں تک کہ نجی شرکت سے چلنے والے ٹرینوں کے ذمہ بھی 2 ارب 45 کروڑ روپے واجبات ہیں۔ واپڈا 53 کروڑ اور نجی آئل کمپنی شیل ریلوے کی 82 کروڑ کی نادہندہ ہے۔

ریلوے نے مزید 126 ارب 12 کروڑ مانگ لیے

پاکستان ریلوے نے آئندہ مالی سال 22-2021 کے لیے 126 ارب 12 کروڑ کا آپریشنل بجٹ مانگ لیا ہے اور اس حوالے سے بجٹ تجاویز وزارت ریلوے کو بھجوا دیں ہیں۔ جو رقم مانگی جارہی ہے وہ رواں مالی سال کے منظور شدہ بجٹ سے 38 ارب روپے زیادہ ہے۔

بجٹ میں ملازمین سے متعلق اخراجات کے لیے 28 ارب 26 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ آپریشنل اخراجات کے لیے 30 ارب 49 کروڑ مانگے گئے ہیں۔ ملازمین ریٹائرمنٹ بینیفٹس کے لیے 50 ارب 69 کروڑ روپے جبکہ گرانٹ سبسڈی لون ایڈوانس کی مد میں 2 ارب 38 کروڑ روپے مانگے گئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے گذشتہ مالی سال 100 ارب روپے پاکستان ریلوے کو خسارہ پورا کرنے کے لیے اور سبسڈی کی مد میں ادا کیے گئے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں ریلوے کے لیے 40 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی۔

متعلقہ تحاریر