اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا غزہ تنازعے کی تحقیقات کا حکم

قرارداد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ میں فلسطینی وفد نے پیش کی تھی۔

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل نے فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی پٹی میں حالیہ 11 روزہ مسلح تنازعے کے دوران انسانیت مخالف اور جنگی جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے اور بعد میں غزہ پر فضائی حملے کرنے کے بعد تناؤ کا آغاز ہوا تھا۔ غزہ اور مغربی کنارے میں کم از کم 285 فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

جمعرات کے روز جنیوا میں 47 رکن ممالک پر مشتمل کونسل کے خصوصی اجلاس میں غزہ میں مرتکبہ جرائم کی تحقیقات کے لیے 24 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ 9 ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت کی اور 14 ممالک نے قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان اور غزہ کے صحافیوں کے لیے امریکا کا منافقانہ رویہ

غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق قرارداد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ میں فلسطینی وفد نے پیش کی تھی۔ رائے شماری کے بعد کونسل کی صدر فجی کی سفیر نزہت شمیم خان نے اس قرارداد کی منظوری کا اعلان کیا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں انہوں نے لکھا کہ انسانی حقوق کونسل میں ہماری قرارداد کو کامیابی ملی ہے۔ غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات ہوں گی اور انکوائری کمیشن تحقیق کر کے اپنی رائے قائم کرے گا۔

پاکستان نے 19 مئی کو او آئی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی اور فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کامطالبہ کیا تھا۔

ادھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں امریکا نے غزہ تنازعے کی تحقیقات کی منظوری کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ہیومن رائٹس کونسل کے اس فیصلے کو شرمناک قرار دیا ہے۔

قرارداد کے متن میں کیا ہے؟

اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور فلسطینی وفد نے مل کر مشترکہ طور پر اس قرارداد کا متن تیار کیا ہے۔ قرارداد میں اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق تفتیش کرنے اور رپورٹ تیار کرنے کے لیے ایک مستقل تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کو اس معاملے کی تفتیش کے اختیارات بھی دیے جائیں کہ خطے میں مسلسل کشیدگی، عدم استحکام اور تنازعے کے اتنے طویل ہونے کی کیا وجوہات ہیں۔

قرارداد میں فلسطینیوں پر جبر اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کی بھی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر