کراچی میں پانی چوری کے خلاف نیب متحرک

کراچی واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل نے پانی کی چوری میں پولیس تھانوں اور مافیا کے گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں قومی احتساب بیورو (نیب) پانی چوری کے خلاف متحرک ہوگیا ہے۔

نیب نے کراچی واٹر بورڈ کے اینٹی تھیفٹ سیل سے تفصیلات طلب کی تھیں جس کے بعد غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور پانی کی چوری میں ملوث افراد کی معلومات جمع کرادی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لیاری ایکسپریس وے کے اطراف واٹر مافیا کے خلاف کارروائی

کراچی واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل نے پانی کی چوری میں متعلقہ پولیس تھانوں اور مافیا کے گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا ہے۔

نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اینٹی تھیفٹ سیل واٹر بورڈ کے انچارج کا الزام ہے کہ پولیس پانی چوری میں ملوث ہے۔

نیب نے کراچی کے تمام اضلاع کے ایس ایس پیز کو طلب کرلیا ہے۔ گذشتہ روز ایس ایس پی شرقی کو طلب کیا گیا تھا۔ آج ایس ایس پی غربی، 2 اپریل کو ایس ایس پی کیماڑی، 3 کو ایس ایس پی ملیر اور 4 کو ایس ایس پی ضلع وسطی کو طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 19 مئی کو کراچی میں لیاری ایکسپریس وے کے اطراف میں واٹر مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی تھی۔ اس موقع پر سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اینٹی تھیفٹ سیل کے سربراہ کو شہر بھر سے پانی کی چوری کا عمل روکنے کی ہدایت کی تھی۔

ناصر حسین شاہ نے کہا تھا کہ واٹر بورڈ کی مختلف علاقوں سے گزرنے والی لائنز سے پانی چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں اور غیر قانونی پانی کے کنکشن کے خلاف کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھی جائیں۔

متعلقہ تحاریر