آن لائن امتحانات کے انعقاد کے حق میں طلباء کا پرتشدد احتجاج

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ روایتی طریقہ کار کے بجائے ان کے امتحانات آن لائن لیے جائیں۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے طلباء نے اسلام آباد ایکسپریس وے بند کر کے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ روایتی طریقہ کار کے بجائے ان کے امتحانات آن لائن لیے جائیں۔ اس احتجاج نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

طللباء کا احتجاج، شہریوں کی مشکلات

سنیچر کے روز جڑواں شہروں کے سنگم پر واقع فیض آباد پل کے نیچے جمع ہونے والے طلباء نے ہائی وے کو دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کیا جس کے سبب ہزاروں گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں اور گرمی میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

کیمبرج امتحانات کی منسوخی کے طلباء کے مستقبل پر اثرات؟

مشتعل طلباء نے پتھراؤ بھی کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مشتمل طلباء نے ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا۔

مقدمہ درج، 24 طلباء گرفتار

پولیس نے ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ کرنے، شاہراہ بند کرنے، آگ لگانے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر کے 24 طلباء کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ چند پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ پولیس نے آنسو گیس استعمال کر کے طلباء کو منتشر کیا۔

ادھر پاکستان کی معروف صحافی و اینکر پرسن تنزیلہ مظہر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مظاہرے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طلباء کے خلاف پیغام جاری کیا ہے۔

کلاسز زوم پر اور امتحان روم میں ہونا ناانصافی ہے، طلباء

احتجاج کرنے والے دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلباء کا مطالبہ تھا کہ کلاسز آن لائن ہوئی ہیں تو امتحانات بھی آن لائن لیے جائیں۔ کلاسز زوم پر اور امتحان روم میں ہونا ناانصافی ہے۔ کرونا کی وباء کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند رہے جس کی وجہ سے طلباء امتحانات کی تیاری نہیں کر پائے۔

حکومت سے امتحانات کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ

طلباء کا کہنا تھا کہ وزیر تعلیم نے اچانک امتحانات لینے کا اعلان کردیا جو قابل قبول نہیں ہے۔ اساتذہ نے اسکولوں اور کالجز میں پڑھایا نہیں تو امتحانات کیسے دیں گے؟ حکومت سابق تعلیمی پالیسی کے مطابق فیصلہ کرے۔

آن لائن امتحانات کے لیے یہ پہلا احتجاج نہیں

یہ پہلا احتجاج نہیں تھا جس میں طلباء آن لائن امتحانات لیے جانے کے حق میں مظاہرہ کررہے تھے۔ رواں برس جنوری میں بھی اسلام آباد اور لاہور میں مختلف جامعات کے طلباء نے احتجاج کیا تھا جس پر 40 طلباء کے خلاف مقدمہ درج کر کے متعدد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

کئی سوالات پیدا

طلباء کی جانب سے پرتشدد احتجاج اور آن لائن امتحانات پر اصرارا نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا طلباء کو اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر آنا چاہیے یا والدین کی مشاورت سے تعلیمی اداروں کی انتظامیہ سے مل کر جائز مطالبات تسلیم اور مسائل حل کرانے چاہئیں؟ کیا تشدد کا راستہ اختیار کرنا درست ہے؟ اور کیا اس کا کوئی جواز ہوسکتا ہے؟

کیا آن لائن امتحانات لیے جانے پر اصرار درست ہے؟ جبکہ طلباء کے تعلیمی استطاعت جانچنے کے لیے شفاف امتحانات ضروری ہیں؟ آن لائن امتحانات بحالت مجبوری تو لیے جاسکتے ہیں مگر کیا یہ روایتی طریقہ کار کا متبادل ہوسکتے ہیں؟

کیا حکومت نے ذمہ داری پوری کی؟

یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ طلباء اگر آن لائن کلاسز سے مطمئن نہیں تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور تعلیمی اداروں کی جانب سے ایسا کوئی نظام اور سافٹ ویئر کیوں وضح نہیں کیا گیا جو تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد طلباء کے روایتی درس و تدریس کی کمی کو پورا کرتا؟

کرونا اور تعلیمی اداروں کی بندش

ملک میں کرونا کی وباء کے کیسز سامنے آنے پر گذشتہ برس فروری میں تعلیمی ادارے بند کیے گئے تھے جو ستمبر 2020 میں کھولے گئے۔ تاہم کرونا کی وباء کی دوسری لہر کی وجہ سے نومبر 2020 میں تعلیمی ادارے دوبارہ بند کردیے گئے تھے جنہیں مرحلہ وار 19 جنوری 2021 سے کھولا گیا۔ مگر کرونا کی نئی لہر کے سبب تعلیمی ادارے بند کرنا پڑے۔

رواں برس امتحانات لازمی ہوں گے

کرونا کی وباء کی وجہ سے گذشتہ برس سالانہ امتحانات منسوخ کر کے طلباء کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کردیا گیا تھا تاہم رواں برس وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا تھا کہ اس برس امتحانات لازمی ہوں گے۔

طلباء کا کیا موقف ہے؟

طلباء یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ سارا سال کلاسز آن لائن ہوئیں اس لیے امتحانات بھی آن لائن ہونے چاہئیں۔ یا پھر طلباء کو کیمپس میں تعلیم کا موقع دیے جانے کے بعد کلاس روم میں امتحان لیے جائیں۔

طلباء کا یہ بھی موقف ہے کہ کرونا کی وباء کے پھیلاؤ کے سبب تعلیمی اداروں میں آکر امتحانات دینے سے طلباء اس وباء کا شکار ہوسکتے ہیں۔

تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کا موقف

تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کی جانب سے موقف اختیار کیا جارہا ہے کہ آن لائن طریقہ امتحان میں معیار کو برقرار رکھنا اور طلباء کی اہلیت کو پرکھنا مشکل کام ہے۔ آن لائن میں طلباء نقل کر کے بھی امتحان دے سکتے ہیں۔ جبکہ کلاس رومز کے امتحان میں طلباء کی باقاعده نگرانی کی جاتی ہے۔

امتحانات کی منسوخی کے لیے ٹوئٹر ٹرینڈ

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر امتحانات کی منسوخی کے لیے ٹرینڈ چل رہا ہے۔ کینسل بورڈ ایگزامز کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے ٹوئٹر صارفین امتحانات منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں کیمبرج کے طلباء کے وکیل جبران ناصر اس مہم میں طلباء کی سربراہی کر رہے ہیں۔ کئی ٹوئٹر صارفین نے جبران ناصر پر تنقید کی ہے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ جبران ناصر خود وزیر تعلیم بننا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صرف وہی اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔

حمزہ بن سعود نامی صارف نے لکھا کہ جبران ناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے کیونکہ انہوں نے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ مجھے لگتا تھا کہ جبران ناصر نے اہم معاملات پر بات کی ہے لیکن ٹوئٹر پر آنے سے پہلے میں سمجھ نہیں سکا تھا کہ لوگوں نے انہیں ووٹ کیوں نہیں دیا۔

متعلقہ تحاریر