جہانگیر ترین کا وزیراعظم سے انصاف کا مطالبہ

جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ ’ہمارے ساتھ سیاست نہیں بلکہ انصاف کیا جائے۔‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ ’وزیراعظم پاکستان عمران خان نے انصاف کا وعدہ کیا تھا اس لیے ہمارے ساتھ اب سیاست نہیں بلکہ انصاف کیا جائے۔‘ دوسری جانب جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے رہنما نذیر چوہان نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے مذہب کو چیلنج کردیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں شوگر اسکینڈل اور منی لانڈرنگ کے مقدمات کی سماعت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تفتیش کی ذمہ داری بیرسٹر سید علی ظفر کو سونپی تھی جنہوں نے محنت کر کے تفتیش مکمل کرلی ہے۔ امید تھی کہ رپورٹ منظر عام پر آجائے گی۔ آج مئی کا آخری دن بھی آگیا ہے مگر رپورٹ منظرعام پر نہیں لائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف 1، شہباز شریف 0

جہانگیر ترین نے کہا کہ قیاس آرائیاں ہیں کہ بیرسٹر سید علی ظفر نے زبانی رپورٹ دے دی ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ رپورٹ میرے لیے مثبت ہے۔ عمران خان نے انصاف کا وعدہ کیا تھا۔ بہت دن گزر گئے ہیں اور اب انصاف مل جانا چاہیے۔ ہمارے ساتھ سیاست نہیں بلکہ انصاف کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر سید علی ظفر کی وزیراعظم عمران خان سے کہی گئی بات منظر عام پر آنی چاہیے۔ ہمارے علم میں کچھ ایسی باتیں بھی آئی ہیں جو میڈیا کو نہیں بتا سکتے۔

بعدازاں شوگر اسکینڈل اور منی لانڈرنگ مقدمات کی سماعت کے موقع پر لاہور کی سیشن کورٹ نے جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کی عبوری ضمانت میں 11 جون تک توسیع کردی۔ اس موقع پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ نذیر چوہان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے سے بات مزید بگڑ گئی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی نذیر چوہان نے گذشتہ دنوں نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے پروگرام ٹو دی پوائنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر پر قادیانی ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

وزیراعظم جہانگیر ترین

ادھر شہزاد اکبر مرزا نے اپنے خلاف متنازع بیان دینے پر جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے رکن قومی اسمبلی نذیر چوہان پر مقدمہ درج کرادیا ہے۔ انہوں نے نذیر چوہان کے خلاف لاہور کے تھانہ ریس کورس میں دائر مقدمے میں کہا کہ میں باعمل مسلمان ہوں اور ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں۔ نذیر چوہان کا متنازع بیان جھوٹ پر مبنی ہے جس کے باعث ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاست اس نہج پر پہنچ گئی ہے جہاں سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے مذہب کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے۔ اگر سیاست نے مذہب کی روش اختیار کرلی تو انتہاپسندی کو روکنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے نذیر چوہان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ذاتی انتقام کے لیے مذہبی کارڈ استعمال کرنا گھناؤنا فعل ہے۔ نذیرچوہان شہزاداکبر کے خلاف تیسرے درجے کے حربے استعمال کررہے ہیں۔ لاہور پولیس نذیر چوہان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

متعلقہ تحاریر