ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے شہروز کاشف کی پاکستان واپسی
شہروز کاشف نے کم عمری میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے والے پاکستانی نوجوان شہروز کاشف وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ نمائندہ نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے شہروز کاشف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے رہائشی 19 سالہ شہروز کاشف دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے جہاں اہل خانہ اور دوست احباب نے ان کا ڈھول کی تھاپ پر رقص اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے استقبال کیا۔
یہ بھی پڑھیے
شہروز کاشف ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے سب سے کم عمر پاکستانی
شہروز کاشف نے نیپال میں موجود دنیا کی بلند ترین چوٹی کو محض 19 برس کی عمر میں سر کر کے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وطن واپس پہنچنے کے بعد شہروز کاشف نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میرے اکیلے کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا اعزاز ہے۔ میری کوشش ہے کہ اب میں مزید چوٹیاں سر کروں۔‘
شہروز کاشف نے کہا کہ ’دنیا کی کوئی بھی طاقت آپ کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی ہے۔ 8 سال پہلے میں نے کہا تھا کہ کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ سر کروں گا جبکہ 11 سال کی عمر میں اپنے مشن میں مصروف ہوگیا تھا۔ اس وقت لوگوں نے سمجھا کہ بچہ ہے ایسے ہی بول دیا۔‘
ایک سوال کے جواب میں شہروز کاشف نے کہا کہ ’میں اپنی کامیابی کو والد کے بعد تمام پاکستانیوں کے نام کرتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میرے پاؤں پر زخم مجھے پہاڑ کا دیا ہوا تحفہ ہے جسے میں نے قبول کیا ہے تاہم جلد ہی وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ یہ تو ابھی آغاز ہے اور اب پاکستان کے لیے مزید اعزاز حاصل کرنے ہیں۔ میں نے اپنا حق ادا کردیا ہے اب حکومت کے اوپر ہے کہ وہ میرے ساتھ کتنا تعاون کرتی ہے۔ مستقبل سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا مگر میں مزید پہاڑوں کو سر کروں گا۔‘
شہروز کاشف کے والد کاشف نے نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے تمام بچوں میں شہروز میں پہاڑوں کو سر کرنے کا شوق تھا جو اس نے کر دکھایا ہے۔ یہ مجھ سمیت میرے اہل خانہ اور پاکستان کے لیے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اب تک حکومتی اور نجی اداروں میں سے کسی نے کوئی تعاون نہیں کیا ہے تاہم ممکن ہے کہ حکومت آگے چل کر تعاون کرے۔‘









