مفتی عزیز الرحمان کی نازیبا ویڈیو پر مولانا فضل الرحمان خاموش
سوشل میڈیا صارفین مفتی عزیز الرحمان کو جمعیت علمائے اسلام (ف) سے نکالنے مطالبہ کر رہے ہیں۔

مدرسے کے طالبعلم کے ساتھ بدفعلی کی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مفتی عزیز الرحمان نے وضاحتی ویڈیو پیغام جاری کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو بنانے سے پہلے انہیں چائے میں نشہ آور چیز ملا کر پلائی گئی جس کے بعد وہ ہوش و حواس میں نہیں تھے۔ جامعہ منظور السلام نے تو مفتی عزیز الرحمان کو برخاست کردیا ہے لیکن ان کی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان تاحال خاموش ہیں۔
ایک ویڈیو پیغام میں مفتی عزیز الرحمان نے کہا ہے کہ بعض ذرائع کے ذریعے ڈیڑھ سال قبل مجھے معلوم ہوا کہ میرے متعلق کچھ نازیبا اور بےہودہ ویڈیوز بنائی گئیں ہیں۔ جب میرے متعلقین کو اس سلسلے میں معلوم ہوا تو انہوں نے مجھے ردعمل دینے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھیے
طالبات کا آئی بی اے کی انتظامیہ پر جنسی ہراسگی کا الزام
انہوں نے کہا کہ اپنی پاک دامنی کی وجہ سے میں نے ویڈیو سے مکمل طور پر انکار کیا۔ ویڈیو کی تحقیقات کی گئیں اور میری پاک دامنی پر مکمل اعتماد کر کے ویڈیو کو رد کیا گیا۔ ٹی وی سے وابستہ ایک شخص نے ایک ماہ قبل رات کو فون کر کے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور مدرسہ چھوڑنے کے لیے کہا۔ مجھے اپنی پاک دامنی پر بھروسہ تھا اس لیے میں نے انکار کردیا۔
ویڈیو پیغام میں مفتی عزیز الرحمان نے کہا کہ نامعلوم افراد 3 جون کو مدرسے میں میرے گھر آئے، میرے بیٹوں کو ویڈیو کلپ دکھایا اور 24 گھنٹوں میں مدرسہ چھوڑنے کا کہا۔ ویڈیو میرے حوالے نہیں کی گئی جس کی وجہ سے میں اسے ملاحظہ نہیں کرسکا۔ میں دل کا مریض ہوں اس لیے میرے بیٹوں نے بھی یہ ویڈیو مجھے نہیں دکھائی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہی میں نے ویڈیو دیکھی ہے اور اب میں اِن کی حقیقت بھی بیان کر سکتا ہوں۔
The accused says he was given drugs to make him what he did & it was recorded as part of conspiracy to oust him from seminary by main character (victim) at the behest of teachers Asadullah Farooq & Syed Rasool, the latter an Afghan who “has fraudulently obtained Pakistani CNIC.” https://t.co/3sZ8UagpUJ pic.twitter.com/kmrYUdstps
— Naimat Khan (@NKMalazai) June 16, 2021
انہوں نے کہا کہ میں جامعہ منظور اسلامیہ میں 25 سالوں سے تدریس سے منسلک ہوں۔ مجھ پر اس مدرسے کے مہتم اول مولانا پیر سیف اللہ خالد نقشبندی کا مکمل اعتماد تھا۔ مدرسے کا انتظام ان کی وفات کے بعد ان کے صاحبزوں اسد اللہ فاروق اور خلیل اللہ ابراہیم حوالے کیا گیا۔ یہ دونوں میرے شاگرد ہیں لیکن انتظام سنبھالنے کے بعد دونوں ہی مجھ سے خائف تھے کہ کہیں مفتی مدرسے پر قبضہ نہ کرلیں۔ میرے خلاف انہوں نے کئی مرتبہ پروپیگنڈا کیا کہ میں مدرسے پر قبضہ کر رہا ہوں لیکن میں نے گزشتہ 4 سال میں ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔
مفتی عزیز الرحمان نے کہا کہ گزشتہ رمضان مدرسے کی گرتی ہوئی صورتحال پر کچھ لوگوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور مجھے عملی قدم اٹھانے کا کہا گیا تھا جس کے بعد میرے خلاف صابر شاہ نامی نوجوان کو استعمال کیا گیا۔ میرے بیٹوں سے ڈیڑھ سال قبل اس کی لڑائی بھی ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ویڈیو ڈھائی سال بعد منظر عام پر لائی گئی ہے۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے ایسا کوئی کام اپنے ہوش و حواس میں نہیں کیا۔ دراصل ویڈیو بنانے سے قبل لڑکے نے مجھے چائے میں نشہ آور چیز ملا کر پلائی جس کے بعد میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہا۔ یہ ویڈیو مجھے مدرسے سے نکلوانے کے لیے منظرعام پر لائی گئی ہے۔
ادھر جامعہ منظور الاسلام نے تو مفتی عزیر الرحمان کو برخاست کردیا ہے لیکن سوشل میڈیا صارفین کا مطالبہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان انہیں جماعت سے بھی فارغ کریں۔









