ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو کا سورس کوڈ نیلامی کے لیے پیش
کمپیوٹر سائنسدان ٹم برنرز لی نے 1989 میں ورلڈ وائڈ ویب ایجاد کی تھی۔
ورلڈ وائڈ ویب (ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو) کے اصل موجد ٹم برنرز لی نے سورس کوڈ نان فنگبل ٹوکن (این ایف ٹی) کو نیلامی کے لیے پیش کردیا ہے۔ ٹم برنرز لی نے این ایف ٹی کو ’ساؤتھ بے‘ کا نام دیا ہے۔ سورس کوڈ کی بولی ایک ہزار امریکن ڈالرز سے شروع ہوگی۔
کمپیوٹر سائنسدان ٹم برنرز لی 8 جون 1955 کو لندن میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1989 میں ورلڈ وائڈ ویب (ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو) ایجاد کی تھی۔ یورپ اور لندن میں اخباری صنعت 15ویں صدی سے چل رہی تھی لیکن ’WWW‘ کی ایجاد کے بعد انقلاب برپا ہوگیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ٹوئٹر پر خواتین کے لیے نیا فیچر
ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ ایتھیریم بلاک چین نان فنگبل ٹوکن ایک قسم کا ڈیجیٹل اثاثہ ہے جس کی ملکیت کا ریکارڈ اس کے موجد کے پاس ہوتا ہے۔ ٹم برنرز لی کی جانب سے نیلامی کے لیے پیش کیے گئے سورس کوڈ میں ان کے ہاتھ کا لکھا گیا خط بھی موجود ہے۔
In 1989, British computer scientist @timberners_lee invented the World Wide Web in a moment that changed the world forever. Now, Sir Tim will offer the source code for the Web as an NFT in a historic one-off sale. Thread below (1/4)#ThisChangedEverything pic.twitter.com/nYvBFrz0Zr
— Sotheby’s (@Sothebys) June 15, 2021
حالیہ مہینوں میں نیلامی کے بازار میں این ایف ٹی سورس کوڈ کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔ امریکی آرٹسٹ مائیک ونکل مین (جو آرٹ کی دنیا میں ’بیپل‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں) نے اپنے آرٹ ورک کے سورس کوڈ کو رواں برس مارچ کے مہینے میں 70 لاکھ امریکی ڈالرز میں فروخت کیا ہے۔
نیلامی کے لیے پیش کردہ سورس کوڈ 9 ہزار 555 سطروں پر مشتمل ہے جس میں ٹم برنرز لی کی ایجاد کردہ 3 زبانیں اور پروٹوکولز شامل ہیں۔ 3 زبانیں ایچ ٹی ایم ایل (ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگوئج)، ایچ ٹی ٹی پی (ہائپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول) اور یو آر آئی (یونیفارم ریسورس آئیڈینٹیفائرز) پر مشتمل ہیں۔
’This Changed Everything‘ کے نام سے این ایف ٹی سورس کوڈ کی آن لائن نیلامی 23 سے 30 جون تک جاری رہے گی جس کی بولی ایک ہزار امریکی ڈالرز سے شروع ہوگی۔

1989 میں یورپ کے طبیعات کے تحقیقی مرکز ’سی ای آر این‘ میں کام کرتے ہوئے ٹم برنرز لی نے سورس کوڈ سے متعلق جو نقطہ نظر پیش کیا تھا اسے انہوں نے ’میش‘ کا نام دیا تھا۔ ٹم برنرز لی کے اُس وقت کے باس نے ان کے نقطہ نظر پر لفاظی کرتے ہوئے ’مبہم مگر دلچسپ‘ قرار دیا تھا۔
1990 میں ٹم برنرز لی نے ایک ویب ایپلی کیشن تیار کی تھی جسے انہوں نے ’ورلڈ وائڈ ویب‘ کا نام دیا تھا۔ ٹم برنرز لی نے اُس وقت ایپل کمپنی کے بانی اسٹیو جابز کے کمپیوٹر نیکسٹ کو استعمال کرتے ہوئے سی پروگرامنگ بنائی تھی۔
ٹم برنرز لی کی اس ایجاد سے دنیا بھر کی خبروں کو ایک ہی جگہ پر جمع کرنا ممکن ہو گیا تھا۔ پچھلی کچھ صدیوں سے انسان نے بہت سے شعبوں میں کامیابیاں سمیٹی ہیں مگر جدید دور کی ’WWW‘ ایجاد نے انسانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا ہے۔









