پرویز الہیٰ ریسکیو 1122 کے ایکٹ پر عملدرآمد نہ کرنے پر برہم
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اراکین سے کہا کہ ’اگر لوگوں کی زندگیاں نہیں بچا سکتے تو اس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ ریسکیو 1122 کے ایکٹ پر عملدرآمد نہ کرنے پر حکومت پر برہم ہوگئے۔
پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے ریسکیو 1122 کے ایکٹ پر برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واحد ادارہ ہے جس کے عملے نے کرونا کے وبائی دنوں میں اپنی زندگیوں کی پرواہ کیے بغیر انسانیت کی خدمت کی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’بِل پر عملدرآمد نہیں ہورہا اور وہ حکومت کے پاس رُکا ہوا ہے۔ بِل کی مخالفت کرنے والے آج بھی بڑے عہدوں پر فائز ہیں، ان بیوروکریٹس کا نام لینا اچھا نہیں سمجھتا۔‘
یہ بھی پڑھیے
غیر رجسٹرڈ کمپنیز اور سوشل ایپس کی جعل سازی پر نوٹس
چوہدری پرویز الہیٰ نے وزیر قانون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ حکومت کا بےجا دفاع نہیں کریں۔ اس حکومت کا سب سے زیادہ دفاع میں نے کیا ہے۔ میں ضیاءالحق کے زمانے سے چلا آرہا ہوں اور میں نے کئی حکومتیں چلائی ہیں لیکن اسمبلی کے پاس کردہ بل پر عملدرآمد نہ ہونا درست نہیں ہے۔‘
انہوں نے اراکین اسمبلی سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’اگر ہم لوگوں کی زندگیاں نہیں بچا سکتے تو اس ایوان میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے معاملہ اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی نمبر 13 کے سپرد کرتے ہوئے سیکریکٹری کو ہدایت کی کہ وہ جمعے کے روز ہی اس کا اجلاس منعقد کریں جس کی صدارت میں خود کروں گا۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں ایمرجنسی سروسز کے ادارے موجود ہیں جو ہنگامی حالات میں انسان کی جان بچانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں ایمرجنسی سروسز کا ادارہ 911، برطانیہ میں 112، سنگاپور، ملائیشیا اور بنگلہ دیش میں 999، آسٹریلیا میں 000 اور انڈیا میں 108 کے نمبروں سے پہچانا جاتا ہے۔
پاکستان میں ہنگامی حالات میں انسانی مدد کے لیے ریسکیو 1122 کا نظام لاہور سے 2014 میں شروع ہوا تھا۔ اپنے آغاز کے بعد سے یہ نظام دھیرے دھیرے پورے ملک میں پھیل گیا۔ اس سروس کے لیے موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے کئی کاوشیں کی ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ریسکیو 1122 کے ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق حکومت کے منفی رویے پر ناراض ہیں۔









