ٹوئٹر پر انڈیا میں نفرت پھیلانے کا الزام

سوارا بھاسکر اور ارفع خانم شیروانی کے خلاف بزرگ مسلمان شہری کی حمایت کرنے پر شکایت درج کی گئی ہے۔

بالی ووڈ کی اداکارہ سوارا بھاسکر اور انڈیا کی صحافی ارفعہ خانم شیروانی کے خلاف تشدد کا شکار بزرگ مسلمان شہری کی حمایت کرنے پر شکایت درج کرلی گئی ہے۔ ٹوئٹر پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ انڈیا میں نفرت اور تعصب پھیلا رہا ہے۔ 

چند روز قبل انڈیا کی ریاست اترپردیش میں بزرگ مسلمان شہری پر تشدد کیا گیا تھا جس کے بعد متاثرہ شخص عبدالصمد سیفی کا کہنا تھا کہ ان کی داڑھی کاٹ کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور جے شری رام کا نعرہ لگانے کا کہا گیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اداکارہ سوارا بھاسکر اور انڈیا کی صحافی ارفع خانم شیروانی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی تھی۔ جس پر ایڈووکیٹ امیت اچاریا نے سوارا بھاسکر، ارفع خانم شیروانی اور ٹوئٹر انڈیا کے سربراہ منیش مہیشواری کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی ہندو برادری کی انڈیا سے وطن واپسی

پولیس کو درج کروائی گئی شکایت میں کہا گیا ہے کہ سوارا بھاسکر اور ارفع خانم شیروانی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے انڈیا کے شہریوں میں نفرت پھیلانے کے لیے پروپیگنڈا کیا ہے۔ شکایت کے متن میں کہا گیا ہے کہ انڈیا میں ٹوئٹر کے سربراہ منیش مہیشواری نے جھوٹ پر مبنی ٹوئٹس کو ہٹانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی۔

سوارا بھاسکر نے اس واقعے پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ چند مسلمان افراد نے ہی بزرگ شخص کو مارا تھا لیکن زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہنا اور ان کی داڑھی کاٹ دینا۔ کیا واقعی یہ پوری کہانی ہے؟

 صحافی ارفع خانم شیروانی بھی متاثرہ شخص کی حمایت میں نظر آئیں۔

متعلقہ تحاریر