فنکاروں، ادیبوں اور مصنفین کی ’پنجاب میں گالی کلچر‘ کی حمایت

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے چند روز قبل گالی کو پنجاب کا کلچر قرار دیا تھا۔

سینیئر فنکاروں، مصنفین اور ادیب حضرات نے اس بات کی حمایت کی ہے کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے۔

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں بجٹ پر اراکین اسمبلی کی بحث جاری تھی کہ پاکستان کے مقدس ایوان کی تذلیل اراکین اسمبلی نے گالیاں اور ہاتھا پائی سے کی۔ 22 کروڑ پاکستانیوں کے ووٹ سے منتخب اراکین اسمبلی گلی محلے کے بچوں کی طرح لڑتے اور دست گربیاں نظر آئے۔

بعدازاں پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر سے اسلام آباد میں صحافی نے سوال کیا کہ سب نے دیکھا کہ ایوان میں گالی دی گئی۔ اس پر شیخ روحیل اصغر  نے کہا کہ گالی پنجاب کا کلچر ہے۔ یہ جو گالی ہوتی ہے آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس طرح لیتے ہیں، غصے میں آکر انسان گالی دے دیتا ہے۔

اپوزیشن کے اس بیان پر لاہور سے تعلق رکھنے والے حکومتی رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو گالی دی گئی اور کہا گیا کہ گالی دینا پورے پنجاب کا کلچر ہے۔ میں بھی پنجاب کا بیٹا ہوں، پنجاب کا کلچر ہر گز گالی دینا نہیں ہے۔ جو یہ کہتا ہے وہ پنجاب کی تہذیب، تاریخ اور ثقافت کو مسخ کر رہا ہے۔

پنجاب میں گالی دینا کیا واقعی کلچر ہے یا نہیں؟ اس موضوع پر نیوز 360 نے سینیئر فنکاروں، مصنفین اور ادیب حضرات سے بات کی تو انہوں نے بھی شیخ روحیل اصغر کی بات کی حمایت کی اور کہا کہ پنجاب کا کلچر بہت بڑا ہے۔ محض گالی دینا ہی پنجاب کا کلچر نہیں ہے مگر پنجاب کے کلچر میں سے گالی کے عنصر کو نکالا نہیں جا سکتا۔ پنجاب میں گالی دینا یا گفتگو میں استعمال کرنا عام سی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بابا بلھے شاہ کی زمین پر گالیوں کا کلچر ہو ہی نہیں سکتا

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر فنکار مسعود اختر نے کہا کہ ’پنجاب کی ثقافت بہت بڑی ہے۔ اس کلچر میں جیسے ڈرامہ، رقص اور طنز و مزاح شامل ہے ویسے ہی گالی بھی ہیں۔ ہم اپنے گھروں میں بھی گالی دیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سیاست میں کیا ہوتا ہے میں کچھ نہیں جانتا البتہ میرے ساتھ گالی سے متعلق ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ میں موچی دروازے کے قریب سے گزر رہا تھا تو مجھے ماں کی گالی دی گئی۔ جب میں نے ان کی طرف دیکھا تو کہنے لگے آئیے ہم آپ کو دودھ لسی پلاتے ہیں یا کھانا کھلاتے ہیں۔ میں نے یہ اس واقعے کا ذکر آغا طارق صاحب سے کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری تعریف اور پذیرائی ہے۔ گالی دینا کوئی بڑی بات نہیں، ایسا ہوجاتا ہے۔‘

صدارتی تخمہ امتیاز برائے ادب حاصل کرنے والے ڈاکٹر کنول فیروز نے نیوز 360 سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’گالی دینا محض پنجاب کی ثقافت نہیں ہے بلکہ پنجاب کی ثقافت میں اور بھی بہت سی چیزیں آتی ہیں۔ گالی دینا اس ثقافت کا ایک حصہ ہے۔ عمومی طور پر پنجاب میں گالی دینے کو عام سا عمل سمجھا جاتا ہے۔ دوست احباب ایک دوسرے کو پیار سے ماں بہن کی گالی دے دیتے ہیں۔ اس کلچر میں زیادہ گالیاں ماں بہن کے حوالے سے پائی جاتی ہیں جبکہ اور مشہور گالیاں بھی ہیں۔ اب تو عورتیں اور بچے بھی گالیاں دیتے ہیں۔ ہم اس کلچر کو ختم نہیں کر سکتے مگر اسے محدود ہونا چاہیے۔‘

سینیئر ڈرامہ نگار منیر راج نے نیوز 360 سے گفتگو میں کہا کہ ’صرف پاکستان میں ہی اسمبلی میں جھگڑے نہیں ہوتے بلکہ پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے۔ پنجاب کا اندازہ بیاں وسیع ہے۔ مرد ہو یا عورت جب بات کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے برا بھلا کہہ رہے ہیں یا بدتمیزی کر رہے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کو انداز بیان کہہ سکتے ہیں۔ پنجابی گالی کو گالی نہیں سمجھتا بلکہ وہ عادتاً گالی دیتا ہے۔‘

نیوز 360 سے گفتگو کرتے ہوئے پنجابی کی معروف شحضیت مرحوم ڈاکٹر فقیر محمد فقیر کے پوتے خالد معین بٹ نے کہا کہ ’گالی دینا تو بدتمیزی ہے مگر یہ پنجاب کا کلچر بھی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پنجاب میں گلی دینا عام سی بات سمجھی جاتی ہے مگر ایسا ہونا نہیں چاہیے۔‘

مصنف اسرا اسلم نے نیوز 360 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر دور میں گالم گلوچ ہوتا تھا مگر اس طرح کھلے عام نہیں تھا۔ پنجاب پانچ دریاؤں کی دھرتی ہے جس کا کلچر بہت خوبصورت ہے۔ اس کی عزت نہیں کر سکتے تو خراب بھی نہیں کرنی چاہیے۔‘

مصنف اور کالم نگار ڈاکٹر انصر پرویز اور اشرف خان نے کہا کہ ’جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا وہ قابل مذمت ہے۔ ایسا بلکل نہیں ہونا چاہیے۔ گالی دینا عام بات ضرور ہے مگر اس طرح کے بیانات سے ہم کیا پیغام دے رہے ہیں؟‘

متعلقہ تحاریر