سرپلس بجلی کہاں کھو گئی؟

ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بندش سے معمولات زندگی متاثر ہونے لگے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ طلب سے زیادہ پیداوار پر بھی شہریوں کو 7 سے 12 گھنٹے بجلی کی بندش کا عذاب سہنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان میں لوڈ شیڈنگ ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ملک بجلی کی پیداوار میں خود کفیل ہے۔ بجلی کی پیداوار ملک کی مجموعی طلب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ فروری تک بتائے جانے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان 35 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن، اس کے باوجود مختلف شہروں میں 7 سے 12 گھنٹوں تک غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔

لاہور میں بجلی کی بندش سے معمولات زندگی متاثر ہونے لگے ہیں۔ مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے باعث پانی کی شدید قلت بھی ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے شہریوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بجلی ہونا یا نہ ہونا دونوں ہی دردسر

لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے مقامی سطح پر کارخانے بھی متاثر ہورہے ہیں۔ پشاور کا بھی حال کچھ الگ نہیں ہے۔ نیوز 360 سے گفتگو میں شہریوں نے ارباب اختیار سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں بھی بدترین لوڈشیڈنگ سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر