دیار غیر میں بھی صحافی غیر محفوظ
مبشر زیدی نے وائس آف امریکا میں دفتری سیاست اور اقرباء پروری کا تذکرہ کیا۔
روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی 100لفظوں کی کہانی سے شہرت حاصل کرنے والے سینئر صحافی مبشر علی زیدی امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکا کی ملازمت سے ایک مرتبہ پھر ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں صحافتی بددیانتی کے بے بنیاد الزام پر معطلی کے بعد مبشر علی زیدی کو ڈیڑھ ماہ قبل ہی نوکری پر بحال کیا گیا تھا۔ تاہم، اب انہیں معاہدے کی تجدید نہیں دی گئی۔
مبشر زیدی نے طویل فیس بک پوسٹ میں اپنے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا ذمہ دار وائس آف امریکا اردو سروس کے سربراہ کوکب فرشوری کو ٹھہرایا۔ مبشر زیدی نے لکھا کہ انہوں نے اپنی بحالی سے قبل ہی ایک امریکی سینیٹر کو خط لکھ کر آگاہ کردیا تھا کہ کوکب فرشوری ان کی بحالی میں رکاوٹ ہیں اور بحالی کے بعد کسی اور بہانے سے ان کی ملازمت ختم کردی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے
بھارت کے 3 مسلمان صحافیوں کو 9 سال کی قید؟
مبشر زیدی نے وائس آف امریکا میں دفتری سیاست اور اقرباء پروری کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ انہو ں نے مزید لکھا کہ اظہار کی آزادی کے سب سے بڑے علم بردار ملک امریکا میں ایک صحافی کو بولنے کے جرم میں دوسری مرتبہ بےروزگار کیا گیا ہے۔
سینئر صحافی نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان کی اور ان کے اہلخانہ کی تصاویر پر مغلظات لکھ کر باقاعدہ مہم چلائی گئی جس میں وائس آف امریکا بھی پیش پیش رہا۔
پوسٹ کے آخر میں مبشر زیدی نے بتایا کہ وہ سچ کے خلاف آواز اٹھانے کا سلسلہ بند نہیں کریں گے بلکہ اب اس میں مزید شدت آجائے گی۔ وہ ایک آزاد شہری کے طور پر اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں کئی حقائق سے پردہ اٹھائیں گے۔









