نام نہاد لبرلز کا دوہرا معیار
نام نہاد لبرز علی ظفر اور ہم اسٹار ایوارڈ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

پاکستان کے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر کو ہم اسٹائل ایوارڈز کی میزبانی کرنے اور ایوارڈ سے نوازنے پر انڈسٹری کے نام نہاد روشن خیال افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہی افراد کے گروہ سے تعلق رکھنے والی چند شخصیات ہراسگی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے صحافی مرتضیٰ سولنگی کے ویب چینل پر انٹرویو دیتے نظر آئیں۔
دو روز قبل لاہور میں ہونے والے ہم اسٹائل ایوارڈز میں علی ظفر نے میزبانی کے فرائض انجام دیئے جبکہ انہیں ایوراڈ سے بھی نوازا گیا۔ ساتھی گلوکار پر ہراسگی کا الزام لگانے والی میشا شفیع اس بات پر آگ بگولہ ہوگئیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہم ٹی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اب انہیں اسٹائل ایوارڈز کے لیے نامزد نہ کیا جائے۔
1 sec… you celebrate/award/defend and support harassers, this is old news. So no surprises.
But shouldn’t ‘style’ awards atleast try to find someone with style 2 host their show?? And @HUMStyleAwards please stop nominating me 🙏🏼 I don’t need validation from enablers.— MEESHA SHAFI (@itsmeeshashafi) July 4, 2021
یہ بھی پڑھیے
ہم اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں کا اعلان
سوشل میڈیا پر کچھ نام نہاد لبرز کی جانب سے بھی علی ظفر اور ہم اسٹائل ایوارڈز کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ صارفین کے مطابق علی ظفر میشا شفیع کو ہراساں کرنے کی وجہ سے مقدمے کا سامنا کررہے ہیں اس لیے انہیں اس طرح نوازنا خواتین کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ ٹوئٹر پر پاکستانی فیشن ڈیزائن ماہین غنی نے لکھا کہ صرف پاکستان میں ہی ایک ہراساں کرنے والے شخص کو نوازا جاتا ہے اور اسے اسٹیج شو کی میزبانی بھی دی جاتی ہے۔
Only in Pakistan will a harasser be awarded and put on a stage show. Appalling. I can’t imagine Kevin Spacey or Weinstein hosting anything. And that’s how you become enablers and rape apologists.
— Maheen Ghani (@maheenghani_) July 5, 2021
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری نے ٹوئٹ کیا کہ کیا ہم اسٹائل ایوارڈز میں علیزے شاہ کے لباس پر غم و غصہ کرنے کے بجائے ایوارڈ انتظامیہ سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک ہراساں کرنے والے شخص کو اپنا اسٹیج کیسے دیا؟ جن لوگوں نے ایک ہراساں کرنے والے شخص کی میزبانی میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی، اب انہیں اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی ہوگی۔
Can the outrage over Alizeh Shah’s outfit at the Hum Style Awards be directed instead at Hum Management for giving their stage to a harasser?
So many spineless celebrities who chose to attend an event hosted by a harasser perhaps need to get priorities in order?
— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) July 5, 2021
واضح رہے کہ 18 اپریل 2018 کو میشا شفیع نے اپنی ایک ٹوئٹ میں علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ میشا شفیع نے یہ پوسٹ اس وقت کی تھی جب دنیا بھر میں ‘می ٹو’ مہم عروج پر تھی۔ میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست بھی دی تھی جسے بعد میں خارج کردیا گیا تھا۔ان دنوں میشا شفیع کینیڈا جبکہ علی ظفر پاکستان میں ہی مقیم ہیں اور وہ مختلف فورمز پر میشا شفیع کے خلاف اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جو لوگ اس وقت ہراسگی کیس کے باعث علی ظفر پر تنقید کررہے ہیں وہی لوگ مرتضیٰ سولنگی کے ویب چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق ڈائیکٹر جنرل پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) مرتضیٰ سولنگی کو بھی ہراسگی کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔









