ساحل سمندر پر دھنسا جہاز دوسرا تسمان اسپرٹ تو ثابت نہیں ہوگا؟

تسمان اسپرٹ سے ہزاروں ٹن تیل بہہ جانے سے آبی حیات ختم ہوکر رہ گئیں تھیں۔

کراچی کے ساحل سمندر پر پھنسے مال بردار بحری جہاز میں لاکھوں لیٹر تیل موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ شہریوں میں اس حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کہیں یہ جہاز دوسرا تسمان اسپرٹ ثابت نہ ہوجائے۔

مال بردار کارگو جہاز ہینگ ٹونگ 77 شنگھائی سے ترکی جارہا تھا کہ کراچی بندرگاہ پر لنگر ٹوٹنے سے جہاز اونچی لہروں کے باعث سی ویو کے قریب ریت میں دھنس گیا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ عملے کی طرف سے کے پی ٹی انتظامیہ کو آگاہ کرنے سے پہلے ہی جہاز کم پانی کی وجہ سے ریت میں دھنس گیا، پاکستان میری ٹائم کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین کی گہرے سمندر پر کی گئی ایک دہائی طویل تحقیق

شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کہیں یہ جہاز دوسرا تسمان اسپرٹ ثابت نہ ہوجائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2003 میں کراچی کے ساحل سمندر پر تیل سے لدا یونان کا بحری جہاز تسمان اسپرٹ بھی دھنس گیا تھا، جہاز سے ہزاروں ٹن  تیل بہہ جانے سے آبی حیات ختم ہوگئی تھیں اور تمر کے جنگلات سوکھ گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مال بردار جہاز میں بھی لاکھوں لیٹر ڈیزل موجود ہے جس سے تسمان اسپرٹ جہاز کی طرح آبی حیات کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے حکومت سے جلد از جلد جہاز سے ڈیزل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دو روز قبل وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ علی زیدی نے ساحل پر دھنسنے والے جہاز کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی صورت کراچی کے ساحل کو شپ بریکنگ یارڈز میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔

تسمان اسپرٹ کے حادثے کے باعث ہزاروں افراد جلدی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوگئے تھے جبکہ مچھلیاں ختم ہونے سے کئی سال تک ماہی گیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شہریوں سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ احتیاط  کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور جہاز کے قریب نہ جائیں۔

متعلقہ تحاریر