تحریک انصاف کی 3 سالہ کارکردگی کا خلاصہ

حکومت نے معیشت اور خارجہ پالیسی میں کامیابیاں حاصل کیں لیکن بیروزگاری کے باعث انہیں تنقید کا سامنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو 3 سال مکمل ہونے پر وزیراعظم عمران خان آج اپنی کارکردگی سے متعلق عوام کو آگاہ کریں گے۔ گزشتہ تین سالوں میں حکومت نے جہاں معیشت اور خارجہ پالیسی میں کامیابیاں حاصل کی ہیں وہیں انہیں مہنگائی اور بیروزگاری میں ریکارڈ اضافے کے باعث سخت تنقید کا سامنا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے دور اقتدار کو 3 سال مکمل ہونے پر آج اسلام آباد میں تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس سے وزیراعظم عمران خان خطاب کریں گے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما مختلف پروگرامز پر بریفنگ بھی دیں گے۔

پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد احساس پروگرام، بلین ٹری سونامی منصوبہ، کامیاب جوان پروگرام سمیت دیگر اہم منصوبے شروع کیے۔ حکومت کی 3 سالہ کارکردگی کے اہم نقاط یہ ہیں۔

معاشی صورتحال

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معیشت کی بحالی میں کامیاب رہی ہے۔ بہتر اقدامات کے باعث جی ڈی پی کی شرح 3.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے موبائل فون سمیت مختلف مصنوعات کی برآمد بھی شروع کردی ہے جس نے ماضی کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے دوران زرد مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت کو قرضوں کا حصول ضروری تھا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لینے کے بعد ملکی معیشت میں استحکام آیا۔

خارجہ پالیسی

پاکستان تحریک انصاف نے 3 سالوں کے دوران خارجہ پالیسی میں اہم کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ اپنے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان نے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام مظالم بڑھا دیے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔

بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں پر وزیراعظم عمران خان نے خود کو کشمیر کا سفیر قرار دے کر دنیا میں مظلوم مسلمانوں کا مقدمہ لڑا۔ حکومت لمبے عرصے کے بعد کشمیریوں کا مقدمہ اقوام متحدہ میں بھی لے گئی اور دنیا کو بھارتی مظالم سے متعلق آگاہ کیا۔

پی ٹی آئی حکومت نے اںصاف کی عالمی عدالت میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے خلاف مقدمہ جیتا اور انہیں اپیل کا حق دینے کے لیے قانونسازی بھی کی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے فلسطین کے مسلمانوں کے حقوق پر بھی بات کی۔ حکومت نے ترکی کے حکومت کے ساتھ مل کر اسرائیل اور فلسطین میں جنگ بندی کروانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

حالیہ دنوں حکومت نے افغانستان کی صورتحال پر اہم سفارتی فیصلے کیے ہیں۔ پاکستان کی بدولت ہی افغان طالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔ افغانستان سمیت خطے کے امن و امان میں بھی حکومتی سفارتکاری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

مہنگائی اور بیروزگاری

حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے بعد انہیں عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط پر بھی عمل کرنا پڑا جس کے باعث ملک میں بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح گزشتہ 3 سالوں کے دوران ملک میں اشیاء خورونوش کے دام میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے جس سے حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مہنگائی بڑھنے کی شرح، 14 ماہ کی بلند ترین سطح عبور

پاکستان تحریک اںصاف کی حکومت میں آٹے اور چینی کا سنگین بحران بھی سامنے آچکا ہے۔ حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا لیکن حالات اس کے برعکس ہی رہے۔ ایک اندازے کے مطابق تحریک انصاف کے 3 سالہ دور حکومت میں 50 لاکھ سے زائد لوگ بیروزگار ہوئے ہیں۔

قانون سازی

گزشتہ تین سالوں میں پاکستان تحریک انصاف کو سب سے بڑی مشکل قانون سازی میں ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے احتساب کا عمل تیز کرنے اور اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری کے باعث پی ٹی آئی پارلیمنٹ کے اندر ایک دوستانہ ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی رہنماؤں کے سخت ردعمل نے اسمبلیز کا ماحول خراب کیا ہے جس کے باعث حکومت 3 سالوں کے اندر کوئی بڑا بل پاس نہیں کروا سکی ۔ 3 برس تک حکومت نے آرڈیننس کا ہی سہارا لیا ہے۔ حکومت کو اپنی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے قانون سازی پر بھی دھیان دینا ہوگا۔

متعلقہ تحاریر