سماجی تنظیمیں ام رباب کے معاملے پر خاموش کیوں؟
سوشل میڈیا صارفین انسانی حقوق کی تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

سندھ کے مشہور تہرے قتل کیس کی پیروی کرنے والی ام رباب کو ہراساں کرنے کے واقعے کے بعد اب ان کی جان کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین ام رباب کا ساتھ نہ دینے پر انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں دادو کی عدالت میں تہرے قتل کیس کی سماعت کے بعد ام رباب چانڈیو اپنے گھر کی جانب جارہی تھیں کہ انڈس ہائے وے پر ان کے قافلے میں موجود گاڑی سے پیپلزپارٹی کے ایم پی اے نواب سردار خان چانڈیو کے گارڈز کی گاڑی ٹکرائی تھی۔ حادثے کے بعد ام رباب نے الزام عائد کیا کہ ان کے دادا، والد اور چچا کے قتل میں ملوث پیپلزپارٹی کے بااثر ایم پی ایز سردار خان چانڈیو اور برہان چانڈیو انہیں ہراساں کررہے ہیں اور انہیں حادثاتی موت مارنے کی سازش کی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے سڑک پر پیش آنے والے واقعے کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دیا گیا۔ جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ام رباب نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے درخواست کی کہ وہ ان کی آواز بنیں، اس سے پہلے کہ انہیں قتل کردیا جائے۔
میری آواز بنیں اس سے پھلے کے میں بھی ماری جائوں!#SaveUmeRubab
— Ume Rubab (@UmeRubabchandio) August 31, 2021
یہ بھی پڑھیے
ام رباب چانڈیو کا سردار چانڈیو پر ہراسگی کا الزام
ام رباب کی ٹوئٹ پر صارفین ان کے حق میں بولتے نظر آئے اور یوں ٹوئٹر پر "سیو ام رباب” ٹرینڈ بن گیا۔ ام رباب نے ٹرینڈنگ پر صارفین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں ظلم کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
ان ظالم اور بدکاروں سے سب گھٹیا کرداروں سے بستی کو آزاد کرانا ہے
ظالم سرداری نظام مٹانا ہے
عبرت کا نشان بنانا ہے !
Congratulations and Thanks to all my supporters!♥️
یہ آپ سب کے وجہ سے ممکن ہوا یقینن اس میدان جنگ میں,میں اکیلی نہیں ہوں!
Trending In Pakistan✌️#SaveUmeRubab pic.twitter.com/4LV7yIJMit— Ume Rubab (@UmeRubabchandio) August 31, 2021
دوسری جانب ام رباب کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر مکمل خاموشی اختیار کرنے پر صارفین انسانی حقوق کی تنظیموں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ نور مقدم قتل کیس میں آگے آگے رہنے والے لوگ سندھ کی ایک نہتی لڑکی کا ساتھ کیوں نہیں دے رہے۔
We have to support every oppressed person. Ume Rubab needs our support. We have to support her as much as we can. She is Fighting against murderers of her family. She must get justice. She is not alone. We stand with her.#SaveUmeRubab pic.twitter.com/kA2sY5Cttt
— Fazal Abbas (@_AbbasFazal) August 31, 2021
صارفین نے الزام لگایا کہ انسانی حقوق کی علمبردار کہلانے والی تنظیمیں محض ان کیسز پر بینر لے کر احتجاج کرنے پہنچ جاتی ہیں جن کیسز کو میڈیا کوریج ملتی ہے، یہ تنظیمیں سوائے اپنی تشہیر کے کوئی کام نہیں کرتیں۔
قومی میڈیا ، وکلاء برادری اور سیاستدان اسکے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو قاتلوں کو سزا دلوانا کوئی مشکل کام نہیں
افسوس تو یہ ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی انکا خیال نہیں آتا#SaveUmeRubab pic.twitter.com/hAOqjHcvDn— حسان (@HHsirHKBaloch) August 31, 2021
صارفین کا کہنا ہے کہ ویشا ابوبکر کو بھی ایک جاگیردار سے جان کا خطرہ ہے لیکن کسی سماجی تنظیم نے اس کا بھی ساتھ نہیں دیا۔ اب ام رباب کو بھی بااثر جاگیرداروں سے خطرات لاحق ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں۔
واضح رہے کہ 17 جنوری 2018 کو دادو کی تحصیل میہڑ میں چانڈیو برادری کے بااثر افراد نے فائرنگ کرکے ام رباب کے دادا، والد اور چچا کو قتل کردیا تھا۔ ام رباب نے پیپلزپارٹی کے ایم پی ایز سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو پر ان کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔









