نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو معاوضہ کون ادا کرے گا؟

نسلہ ٹاور میں 44 فلیٹس ہیں اور ایک فلیٹ کی قیمت 3 کروڑ روپے ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت یہ رقم متاثرین کو ادا کرسکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کو گرانے کے لیے کنٹرولڈ بلاسٹ کا طریقہ اپنانے کا حکم دیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز کمشنر کراچی نوید احمد شیخ نے نجی کمپنیز سے درخواستیں طلب کرلی ہیں۔

بات یہ ہے کہ نسلہ ٹاور شہر کے اچھے علاقے شاہراہ فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں برسوں قبل شہریوں نے کروڑوں روپے کے فلیٹس خریدے اور اس وقت کسی سرکاری ادارے نے یہ بات نہیں اٹھائی کہ عمارت غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نسلہ ٹاور کو گرانے کا معاملہ، ڈیمولیشن کمپنیز سے درخواستیں طلب

نسلہ ٹاور کو گرانے سے متعلق تیاریاں جاری، گیس منقطع

نسلہ ٹاور میں 44 فلیٹس ہیں اور ایک فلیٹ کی قیمت 3 کروڑ روپے ہے، اس حساب سے کُل رقم 1 ارب 32 کروڑ روپے بنتی ہے۔

اعلیٰ عدلیہ، وفاقی و صوبائی حکومت کو یہ سوچنا چاہیے کہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر کے گھر خریدنے والے افراد کو بے دخل کیا جا رہا ہے، یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

کیا یہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ ان کا جرم کیا ہے؟ نسلہ ٹاور کے بلڈر نے جس طرح سے بھی زمین حاصل کی کیا یہ کام شہریوں کا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرتے پھریں کہ فلیٹ کی زمین قانونی ہے یا غیر قانونی؟

اربوں روپے کا بجٹ وصول کرنے والے صوبائی ادارے اس وقت کہاں تھے جب عمارت کا این او سی لیا جا رہا تھا؟ جب اس پر تعمیرات ہو رہی تھیں؟

اُس وقت کسی ادارے اور محکمے کی طرف سے چوں چراں نہیں کی گئی لیکن اب جب شہری کروڑوں روپے کے فلیٹس خرید کر وہاں رہ رہے ہیں تو انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔

44 فلیٹس کی قیمت 1 ارب 32 کروڑ روپے بنتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے پاس جہازی سائز کی کابینہ اور ناکارہ محکمے چلانے کے لیے اربوں روپے کا بجٹ موجود ہے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت، کوئی سرکاری ادارہ نسلہ ٹاور کے مکینوں کے دکھ کا مداوا کرے، انہیں بے گھر ہونے سے تو کوئی نہیں بچا سکتا لیکن عمارت مسمار ہونے کی صورت میں جو گھر گرنے والے ہیں ان کی قیمت ضرور ادا کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ تحاریر