ایکسپریس ٹریبیون کی بے بنیاد خبر، اسٹاک مارکیٹ اور روپے کو لے ڈوبی
انگریزی اخبار نے خبر دی تھی کہ وزیراعظم نے 6 بلین ڈالر کے معاہدے پر آئی ایم ایف کے سربراہ کو ٹیلی فون کرنے کا منصوبہ ترک کردیا ہے۔
پاکستان کے معروف انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون میں شائع ہونے والی بے بنیاد اور غلط خبر نے ملکی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں گزشتہ روز 720 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 1.15 روپے کی کمی ہوئی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے نامہ نگار شہباز رانا کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے 6 بلین ڈالر کے معاہدے کی بحالی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ٹیلی فون کرنے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈالر کی پھر اونچی اڑان،اسٹاک مارکیٹ میں مندی،تجارتی خسارہ مزید کم
مفتاح اسماعیل کو تیل کی قیمتوں پر دروغ گوئی مہنگی پڑگئی
انگریزی اخبار کی خبر سے یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ جیسے وزیر اعظم کو آئی ایم ایف پیکیج سے فائدہ اٹھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ صرف اس بے بنیاد خبر کے باعث منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے میں آئی اور 100 انڈیکس 700 سے زیادہ پوائنٹس سے نیچے چلا گیا، جبکہ انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے میں 1 روپیہ 15 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس ساری صورتحال پر قابو پانے کے لیے مشیر خزانہ شوکت ترین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "آئی ایم ایف کے حوالے سے چلنے والی ساری خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے ان کے ساتھ ہمارے معاملات طے پا گئے ہیں۔
The news ‘PM drops plan to seek IMF chief’s help” is completely flawed and baseless. Such proposal was never under consideration. The media reporters in the ‘Kamyab Jawan’asked about PM call to IMF chief. My reply was that negotiations are in advance stage and no need for call
— Shaukat Tarin (@shaukat_tarin) November 9, 2021
مشیر خزانہ شوکت ترین نے لکھا ہےکہ "‘وزیراعظم کا آئی ایم ایف کے سربراہ کی مدد لینے کا منصوبہ ڈراپ کرنے کی خبر مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔ ایسی تجویز کبھی زیر غور نہیں آئی۔
شوکت ترین نے مزید لکھا ہے کہ ’کامیاب جوان‘ پر میڈیا رپورٹرز نے وزیراعظم کی آئی ایم ایف کے سربراہ کو ٹیلی فون کرنے کے بارے میں سوال کیا۔ میرا جواب تھا کہ مذاکرات پہلے مرحلے میں ہیں اور ابھی کال کی ضرورت نہیں۔”









