اسلام آباد ہائی کورٹ، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے مسائل کے حل کے لیے حکم جاری

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سیکرٹری اطلاعات اور سیکریٹری قانون کو حکم دیا ہے کہ وہ دو ہفتے میں جواب جمع کرائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے دائر درخواست پر حکم نامہ جاری کردیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل یک رکنی بینچ نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر سیکریٹری اطلاعات اور سیکریٹری قانون سے دو ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ آئی ٹی این ای میں صحافیوں کے 40 ہزار کیسز زیرالتوا ہیں جس پر عدالت نے رجسٹرار آر ای ٹی این ایس کو بھی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے

سپریم کورٹ نے کراچی کی تین متنازع ترین تعمیرات کا فیصلہ جاری کردیا

جیو نیوز نے سابق چیف جسٹس کی آڈیو لیک پر سوالات اٹھا دیے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو صفحات پر مشتمل حکم نامے میں عدالت نے دریافت کیا کہ سیکریٹری اطلاعات اور سیکریٹری قانون بتائیں کہ میڈیا ورکرز اورصحافیوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے گئے۔؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے مفاد عامہ کے معاملے کے پیش نظر صدر سپریم کورٹ بار اور صدر اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن عدالتی معاون مقرر جبکہ سینئر صحافی حامد میر اور مظہرعباس بھی عدالت کی معاونت کریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کےعلم میں لایا گیا ہے کہ میڈیا ورکرز اور صحافیوں کی سیکورٹی کے لیے موثر قانون سازی موجود نہیں۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 9٫14,19 اور 19 اے کے تناظر میں عوامی مفاد کے سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا میڈیا ورکرز ،صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا  بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔

عدالت کے علم میں لایا گیا کہ آئی ٹی این ای میں صحافیوں اور اخباری ورکرز کےچالیس ہزار کیسز اس وقت زیر التوا ہیں۔جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے  رجسٹرار آئی ٹی این ای کو زیرالتوا کیسز سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ بھی کہا کہ ایڈیٹرز، رپورٹرز اور کالم نویس کی آزادی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ صحافیوں کی حفاظت کاسوال اہمیت رکھتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ یونائیٹیڈ نیشن ہیومن رائٹس کمیشن کے تناظر میں بھی معاونین آئندہ سماعت تک سفارشات جمع کرائیں۔ کیس کی مزید سماعت تین ہفتوں بعد ہوگی۔

متعلقہ تحاریر