ہندو انتہاپسندوں نے کامیڈین منور فاروقی کو انڈسٹری چھوڑنے پر مجبور کردیا
منور فاروقی نے انھوں نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ لکھاکہ ' نفرت جیت گئی ، آرٹسٹ ہار گیا

بھارتی ہندو انتہا پسند سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلمان مخالف اور سیاسی ناکامیوں پر تنقید کرنے پر مسلمان بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فارقی نے شدت پسند ہندوؤں کی جانب سے دھمکیوں کے باعث مسلسل شوز منسوخ ہونے پر تنگ آکر انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا۔
بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی جن کو شدت پسند حکمران جماعت بی جے پی کی مسلمان مخالف پالیسیوں پر تنقید کرنے اور مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں پہلے بھی جیل بھیج جاچکا ہے آج بھارتی پولیس نے ان کے بنگلور میں ہونے والے شو کو منسوخ کردیا ہے ، پولیس کا کہنا ہے کہ منور فاروقی کے شو کے حوالے سے خدشات ہیں کہ ان کے شو پر شدت پسند ہندؤوں کی جانب سے حملہ کیا جاسکتا ہے جس کے بعد امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خلاف ورزی کے خدشے کے باعث اس شو منسوخ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مودی کے دورِ حکومت میں ریپ کی دھمکیاں مل رہی ہیں، بھارتی صحافی
بھارتی میوزک لیبل نے نغمہ نگار کا کریڈٹ کسی اور کو دے دیا
View this post on Instagram
پولیس افسر نے کہا کہ منتظمین کو زبانی اور تحریری طور پر اس بارے میں آگاہ کرتےہوئے بتایا ہےکہ منور فاروقی کا شو منعقد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے امن و امان کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری ہدایت ننے پر شو کے منتظمین نے بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہم قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں اور پولیس کے نوٹس پر عمل کریں گے۔
شو کی منسوخی کے بعد منور فاروقی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دلبرداشتہ ہوکرلکھا کہ آج کا بنگلور شو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ لکھاکہ ‘ نفرت جیت گئی ، آرٹسٹ ہار گیا ‘۔
انھوں نے بتایا کہ اس شو کے لیے 600 سے زیاہ ٹکٹ فروخت کیے گئے تھے۔ انھوں نے شکوہ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ ’مجھے اس مذاق کے لیے جیل میں ڈالنا جو میں نے کیا ہی نہیں تھا اور وہ شو منسوخ کرنا جس میں کوئی مسئلہ نہیں، نا انصافی ہے۔‘









