اسمبلیوں سے استعفوں کا کارڈ اپنے وقت پر کھیلیں گے، مولانا فضل الرحمان
سربراہ جے یو آئی ف کے کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ 23 مارچ کو اسلام آباد کی جانب مہنگائی مارچ کرے گی۔
قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفوں کا کارڈ اپنے وقت پر کھیلیں گے۔
اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے سربراہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد دھاندلی سے غیرمنتخب شدہ حکومت وجود میں آئی۔
یہ بھی پڑھیے
اسمبلیوں سے استعفے نہیں دینا، مسلم لیگ ن کا پی ڈی ایم کو مشورہ
این اے 133 کا ضمنی انتخاب، ن لیگ فاتح، ووٹر ٹرن آؤٹ 18 فیصد رہا
سربراہ جے یو آئی ف کے کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ 23 مارچ کو اسلام آباد کی جانب مہنگائی مارچ کرے گی۔ مہنگائی مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں صوبائی سطح پر پی ڈی ایم کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ مہنگائی مارچ کے سلسلے میں حکمت عملی طے کریں گے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں میاں شہباز شریف صاحب اپنی زیرصدارت پنجاب کی پی ڈی ایم کا اجلاس بلائیں گے۔ صوبہ خیبرپختون خوا میں مولانا فضل الرحمان اپنی سربراہی میں اجلاس بلائیں گے۔ صوبہ بلوچستان میں جناب محمود خان اچکزئی اور اویس شاہ نورانی صاحب سندھ میں اپنی سربراہی میں پی ڈی ایم کا اجلاس بلائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ایک نمائندہ سیمینار کا انعقاد بھی کریں گے۔ سیمینار سے قبل میں بذات خود سپریم کورٹ بار کونسل اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان کے ساتھ ملاقات کروں گا۔ ان کی مشاورت کے ساتھ ہم اس کی تاریخ کا بھی تعین کریں گے۔ سول سوسائٹی کے اراکین کو بھی ، بزنس کمیونٹی اور دوسری کمیونیٹیز کے نمائندوں کی مشاورت کے ساتھ ایک بہت سیمینار منعقد کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ کل پی ڈی ایم کی اسٹیرنگ کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔ تاکہ جو فیصلےہو چکے ہیں ان پر عملدرآمد کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ آج کے اجلاس میں سیالکوٹ واقعے کی بھرپور انداز میں مذمت کی گئی۔
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسمبلی سے استعفے دے دئیے جائیں لیکن مسلم لیگ (ن) اس کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس بات پر اختلاف اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ مولانا صاحب کہنے لگے کہ "اگر اسمبلی سے استعفے نہ دئیے گئے تو میں پی ڈی ایم کی سربراہی سے استعفیٰ دے دوں گا۔”









