بنیادی اصلاحات سے عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا
صحافی عدنان رندھاوا نے ٹویٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبدیلیوں کی تعریف کی، انہوں نے نظام عدل کی بہتری کیلیے تجاویز دیں۔

صحافی عدنان رندھاوا نے ٹویٹ کرتے ہوئے پاکستان میں عدالتوں کے بدلتے کردار کی تعریف کی ہے، انہوں نے لکھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اچھی روایات قائم ہورہی ہیں۔
اوپر والے ٹویٹ میں آئینی درخواستوں کی حوصلہ شکنی سے مراد ہے:
صوابدید کا بے دریغ استعمال کر کے آئینی درخواستیں خارج کی جائیں۔
سٹے آرڈر جاری نہ کئے جائیں تاکہ آئینی درخواستیں غیر موثر ہو جائیں۔
آئینی درخواستوں کو اتنی طوالت دی جائے کہ آئینی درخواستیں غیر موثر ہو جائیں۔ وغیرہ وغیرہ— عدنان رندھاوا (@Adnanrandhawa) December 21, 2021
عدنان رندھاوا کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوئیں اور اب سردیوں کی تعطیلات بھی ختم کردی گئی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ یہ غلط روایات انگریز دور سے رائج تھیں، انگریز جج گرمیوں میں برطانیہ جاتے تھے اس لیے عدالتیں بند کردی جاتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
ثمن رفعت امتیاز اسلام آباد ہائیکورٹ کی دوسری خاتون جج ہوں گی
حکومت کے لیے ایک اور مشکل تیار، نیب آرڈیننس اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
عدنان رندھاوا نے کہا کہ نظامِ عدل میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے، جیسا کہ آئینی درخواستوں پر اسٹے آرڈر جاری نہ کیے جائیں تاکہ یہ درخواستیں غیر موثر ہوجائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد اس طرح بحال ہوگا کہ مقدمات وقت پر سماعت کیلیے مقرر کیے جائیں اور جب ایک بار تاریخ دی جائے تو اسے ملتوی نہ کیا جائے۔
مقدمے کی سماعت ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی کردیا جائے، معاملے کو غیر ضروری طول نہ دیا جائے۔









