سکھر میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں

حکومت کی جانب سے قیمتوں پر نظر رکھنے والی پرائس کنٹرول اور ضلعی انتظامیہ بھی سبزیوں اور پھلوں کے نرخ کنٹرول کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہی ہیں۔

سکھر سمیت ملک بھر میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافے نے نئے ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں۔ گذشتہ 2 ماہ سے سردی میں اضافے کیساتھ ہی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں  بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔

پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ آٹا،دال سبزیوں اور پھلوں کے سرکاری نرخ مقرر کرنے کے بعدبھی اس پر عمل درآمد کرانے میں ناکام ہیں۔ اور سرکاری نرخوں کو  تاجروں نے اپنے جوتے کی نوک پر رکھ لیا ہے،سردی کی آمد کیساتھ ہی موسم سرما کا دلدار پھل (موسمی) کینو ،مالٹا بھی مارکیٹ میں فروخت کیلئے پہنچ گیا ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر اسے فروخت کیلئے پیش کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

منی بجٹ میں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط لاگو ہوں گی، مزمل اسلم

ورلڈ بینک بجلی کی تقسیم کار کمپنیز کا قبلہ درست کرنے کی ٹھان لی

واضع رہے کہ موسم سرما میں ٹماٹر کی کم پیداوار سے قیمتوں میں اضافے کا اثر دوسری سبزیوں اور پھلوں کی جانب بھی منتقل ہوگیا ہے اور اس وقت سردی کے موسم میں پیداوار دینے والی سبزیوں کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے قیمتوں پر نظر رکھنے والی پرائس کنٹرول اور ضلعی انتظامیہ بھی سبزیوں اور پھلوں کے نرخ کنٹرول کرنے میں قطعی طور پر ناکام رہی ہیں اسی طرح پھلوں کی قیمتوں میں بھی ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں سے زائد پر فروخت کئے جارہے ہیں۔

موسم سرما میں پیدا ہونے والے کینو، مالٹے اور موسمی کے نرخ بھی بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ کینو 120 روپے سے لیکر 200 روپے فی کلو ، موسمی 100 سے 200 روپے اور شکری مالٹا بھی انہیں نرخوں پر دستیاب ہے۔

مقامی سیب 100روپے سے 150روپے تک جبکہ ایران اور افغانستان سے آنے والا سیب200روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔

ملک بھر کی پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں اور مارکیٹوں کے نرخوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔

متعلقہ تحاریر