کیا نواز شریف اور آصف زرداری کو اپنے بیانات کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتاہے؟

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نے تاثر دیا ہے کہ وہ ڈیل کے سلسلے میں جلد پاکستان میں ہوں گے جبکہ پی پی کے کوچیئرمین نے حکومت کو نانی کا کنبہ قرار دیا ہے۔

خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد ملکی سیاست کا درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے۔ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری نے بلواستہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے تاثرات دینا شروع کردیے ہیں، جس کو خمیازہ انہیں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

گذشتہ روز خواجہ محمد رفیق کے 49ویں یوم شہادت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کی حکومت پر کھل کر تنقید کی اور ایسا تاثر دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے معاملات ٹھیک ہوگئے اور انہوں نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ بہت جلد پاکستانی عوام کے درمیان موجود ہوں گا۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی وی کے 19 کروڑ وصول کرنے کا حکم

وزیراعظم نے تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کردیا، عہدےدار فارغ

20 دسمبر کو نوابشاہ میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ "ہم سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ آئیں اور ہمیں کوئی فارمولا دیں۔ میں ان سے کہا ہے کہ فارمولا بنا بنا کر اس ملک بیڑا غرق کردیا ہے ۔ اگر ہم سے کوئی فارمولا لینا ہے تو پہلے اس کو فارغ کریں۔

اس طرح 23 دسمبر کو ٹنڈو الہٰ یار میں پیپلزپارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ لاہور اور اسلام آباد میں احتجاج کرکے مخالفین کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے ملک کو نانی کا کنبہ بنا رکھا ہے جو کبھی کسی روپ میں آجاتا ہے تو کبھی کسی روپ میں مسلط ہو جاتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے میاں نواز شریف کی ڈیل کس سے ہورہی ہے وہ نام کیوں نہیں بتاتے ، آصف علی زرداری صاحب کھل کر بات کریں کہ انہوں نے نانی کا کنبہ کس کو کہنا ہے۔ آصف زرداری صاحب نے تو کھل کر بات کی ہے کہ ہم سے فارمولا مانگا جارہا ہے۔ اگر ان سے فارمولا مانگا جارہا ہے تو  کس نے مانگا ہے اس کا نام زبان پر کیوں نہیں آتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں  کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری صاحبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کا تاثر پیش کررہے ہیں ، یہ درست ہے کہ حکومت کی کارکردگی اچھی نہیں ہے ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری ہے ۔ مگر جب آپ اسٹیبلشمنٹ کو بلاوجہ گھسیٹیں گے  تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی ساری جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی مرحون منت ہیں ، اگر واقعی ہی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ہاتھ ہے تو پھر حکومت پر تنقید کیوں؟ اور اگر اسٹیبلشمنٹ کا حکومتوں کو لانے اور نکالنے میں کوئی کردار نہیں تو پھر نواز شریف اور آصف زرداری کو اپنے کہے گا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

متعلقہ تحاریر