سانحہ مری، موبائل فون کمپنیز کے پیکجز، بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے پی ٹی اے اور موبائل سیلولر کمپنیز نے پیکجز کو تو فری کردیئے مگر تین دن سے پھنسے لوگوں کے موبائل فونز کون چارج کرے گا۔

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے ،،، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ہدایت پر تمام سیلولر کمپنیز نے مری اور گلیات میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر وہاں موجود صارفین کے لیے انٹرنیٹ اور فون کالز کی مفت سہولت فراہم کردی ہے ، تاکہ ان علاقوں میں پھنسے ہوئے افراد اپنے پیاروں سے رابطہ کرسکیں۔ دوسری جانب مری میں ہوٹل مالکان کی بے حسی اور خودغرضی پر ٹوئٹر پر "بائیکاٹ ۔ مری” ٹرینڈ کررہا ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق مری اور گلیات کے متعدد علاقوں میں موبائل نیٹ ورکس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔

اتوار کے روز جاری کی گئی پریس ریلیز میں پی ٹی اے نے کہا ہے کہ "مری اور گلیات کے علاقوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر، موبائل فون صارفین، جو اس وقت ان علاقوں میں بغیر بیلنس کے موجود ہیں، کو فوری طور پر مفت آن نیٹ کالنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔”

یہ بھی پڑھیے

5سال سے انصاف کی مانگ کرتی بیٹی کمرہ عدالت میں انتقال کر گئی

سانحہ مری ، کیا پاکستانی قوم اخلاقی پستی کا شکار ہوتی جارہی ہے؟

پی ٹی اے کی ہدایت پر، سیلولر موبائل آپریٹرز نے گلیات کے علاقوں میں پھنسے ہوئے صارفین کو اپنے نیٹ ورک پر مفت کالنگ کی سہولت فراہم کی ہے، صفر بیلنس کے ساتھ۔ صارفین مزید معلومات کے لیے اپنے متعلقہ آپریٹرز سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید برآں، پی ٹی اے نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ صارفین کو بلاتعطل خدمات کو یقینی بنائیں اور بجلی کی بندش کی صورت میں بیک اپ کے خاطر خواہ انتظامات رکھیں۔

مری کا سانحہ گزر گیا غم کی داستانیں اور دکھ کے پہاڑ چھوڑ گیا ۔ برفباری میں پھنسی متعدد فیملیز اب تک گھروں کو روانہ نہ ہوسکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت وقت پر مدد کو نہیں پہنچی۔

ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مری سے آنے اور جانے والی تمام شاہراہوں کو کلیئر کردیا گیا ۔ جبکہ میڈیا رپورٹس اس کے برعکس ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہےکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے تین دن سے پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے اب کال پیکج اور انٹرنیٹ پیکج فری کیے جب لوگوں کے موبائل فونز ڈیڈ ہو گئے ہیں ، کیونکہ موبائل فونز کی بیٹری تو ایک دن یا ڈیڑھ دن چلتی ہیں ۔ یعنی بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔ یہاں لوگوں کی زندگی ختم ہو گئی تو کیا موبائل فونز کی بیٹری ختم نہیں ہوئی ہوگی ۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو ٹریفک اور برفباری میں پھنسے ہوئے تھے وہ موبائل فونز کو کہاں سے چارج کرسکتے تھے۔ جیسے ہمارے سیاست دان بے حس ہیں ویسے ہی اس ملک کی کمپنیز نمائشی کام کرنے میں ماہر ہیں۔ عید تہوار آجاتا ہے تو کپڑوں اور دیگر چیزوں کےریٹ آسمان کو چھونے لگتے ہیں اور اگر کوئی کمپنی دو روپے فی کلو تیل یا گھی میں کمی کردیتی ہے تو میڈیا پر ایڈ چلا چلا کر اپنی جھوٹی تعریف کے پل باندھ رہے ہوتے ہیں۔ شرم مگر تم کو پھر بھی نہیں آتی۔

دوسری جانب مری میں ہوٹل مالکان کی بے حسی اور خودغرضی کو دیکھتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر "بائیکاٹ مری” ٹرینڈ کررہا ہے۔

Pakistan Telecommunication Authority

متعلقہ تحاریر