مری کا سانحہ ، حکومت اور اپوزیشن کی بے حسی اپنے عروج پر
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حکومتی وزراء اور حزب اختلاف کی جماعتیں مری کے سانحے پر سیاست چمکا رہی ہیں جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انہیں عوامی مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
مری کے سانحے کو گزر چار روز ہو گئے مگر حکومت اور اپوزیشن کی بےحسی کاعالم یہ ہے کہ سانحے کے فوری بعد ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہ وزیراعطم موجود تھے ، نہ وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے نئے سیکریٹری جنرل اسد عمر وہاں موجود تھے اور نہ ہی پی ٹی آئی پنجاب کے صدر شفقت محمود نے اسمبلی میں آنا گوارہ کیا، جبکہ حزب اختلاف نے سانحے کے اوپر سوائے سیاست کے اور کچھ نہیں کیا۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والوں کو 24 گھنٹے کسی نے نہیں پوچھا، کیا یہ سانحہ تھا یا انسانوں کا قتل عام ، زمہ دار ادارے اپنی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ننگرہار: کالعدم ٹی ٹی پی کا مطلوب دہشتگرد محمد خراسانی ہلاک
وزیر اعظم نے مسلم نسل کشی کے مطالبات پر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھا دیئے
ان کا کہنا تھا کہ یہ بدترین انتظامی نااہلی ہے جسکی کوئی معافی نہیں ، جب محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ شدید برفباری ہونی ہے تو کیا انتظامات کیے گئے ، کیوں ریڈ الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔
میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سانحے کے بعد وزراء کے بیانات شرمناک ہیں، ایک وزیر کہتے ہیں کیا شاندار معیشیت چل رہی ہے لوگ گاڑیوں میں مری جا رہے ہیں، جب یہ حادثہ ہوا تو وہ کہتے ہیں نیرو بانسری بجا رہا تھا، ایک نیرو اسلام آباد میں سویا ہوا تھا۔یہ ایوان حکومت کی بدترین غفلت کی مذمت کرتا ہے۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران انہوں نے اپنی مس مینجمنٹ کو قبول کرنے کی بجائے شہباز شریف پر مری سانحے پر سیاست کرنے کا الزام لگایا اور شعبدہ باز کہہ دیا۔
ان کا کہنا تھا بدقسمتی سے جعلی لیڈر پیدا ہوگئے ہیں، اگر شریف فیملی نے مری میں محل نہ بنائے ہوتے تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
بلاول بھٹو زرداری نے بھی بےحسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی بیان دینے پر اتفاق کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزراء کی طرف سے سانحہ مری کیلئے کوئی ہمدردی نہیں دکھائی گئی، ہم نے دیکھا کہ وزیراعظم کے خاندان کی ایک ممبر چترال میں پھنسی ہوئی تھی جنہیں ریسکیو کیا جارہا تھا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا سانحہ سے ایک دن پہلے وزیر صاحب سیاحوں کی آمد پر جشن منا رہا تھا، لیکن جب لوگوں کی ہلاکت کی خبریں آئی تو کہا کہ ان لوگوں کو نہیں آنا چاہیے تھا، اس قسم کی منافقت پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھی، یہ نئی بات نہیں،جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے یہ متاثرین پر الزامات لگاتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مری پر عدالتی تحقیقات کی جائیں، جو ذمہ دار ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جائے
قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہونے والی تقریروں پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ ہمارے عوامی نمائندوں کی کارکردگی یہ ہے کہ 24 لاشوں پر سیاست کی جارہی ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ سونےپر سہاگہ یہ ہے کہ ن لیگ کا گڑھ ہے مری۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا حلقہ انتخاب ہے مری ۔ لیکن ان کی غیرسنجیدگی کا عالم یہ تھا کہ جب مری میں یہ سانحہ رونما ہورہا تھا تو اسلام آباد کی سڑکوں پر کھڑے حکومتی کارکردگی پر تنقید کررہے تھے ، مگر ان سے یہ نہیں ہوسکا کہ یہ وہاں جاتے جہاں تک ممکن ہوتا برف میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کرتے ۔ وہ کہتے ہیں ناکہ گڑ نہ دیں گڑ جیسی بات ہی کردیں مگر انہوں نے ایسا بھی نہیں کیا۔ تنقید سے لوگوں کی مشکلات اور مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ مری کے ہوٹل مالکان نے تو جو غیرسنجیدگی اور بے حسی کا مظاہرہ کرنا تھا کردیا ، اب قومی اسمبلی کی پوری اشرافیہ اپنی بےحسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مری کی بدانتظامی کا الزام ایک دوسرےکے سر پر رکھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بنیادی بات یہ ہے کہ کیا حکومت اور کیا اپوزیشن مری کے سانحے پر بے حسی پر سر پیٹنے کو دل کررہا ہے۔ بجائے اس کے کہ جو لوگ اس سانحے میں کام آ گئے ان کے اہل خانہ کے ساتھ تعاون کے حوالے کوئی پالیسی ترتیب دیں اور جو لوگ ابھی تک وہاں پھنسے ہوئے ان کے مسائل کو حل کیا جائے۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی سیاست کی جارہی ہے۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔









