نسلہ ٹاور کیس میں اہم پیش رفت،منظور کاکا سمیت 21افسران پر مقدمہ درج

بلڈر مزمل امین درزی، سابق مختار کار خیر محمد ڈاہری اور سمیع سومرو بھی نامزد،نسلہ ٹاور کے مالک اور ایس ایم سی ایچ ایس کے سابق سیکریٹری کی عبوری ضمانت میں توسیع

نسلہ ٹاور کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، محکمہ اینٹی کرپشن نے ایس بی سی اے کے سابق ڈی جیز منظور قادر کاکا اور آشکار داور سمیت 21 افسران  کیخلاف ایف آئی آر درج کرادی۔ 

محکمہ اینٹی کرپشن  کے انسپکٹر زاہد میرانی کی  مدعیت میں درج مقدمے میں  ایس بی سی اے  اور   ماسٹر پلان کے افسران   کے علاوہ  سندھی مسلم سوسائٹی کے عہدیداران کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نسلہ ٹاور کیس میں اہم پیش رفت، سندھی مسلم سوسائٹی کے سابق اعزازی سیکریٹری گرفتار

نسلہ ٹاور تعمیر کرنے کی اجازت دینے والے افسران کے خلاف مقدمہ درج

ایف آئی آر میں  غالب منصور، نوید بشیر، اسلام احمد خان، محمد آصف، یونس ہاشم اور محمد جاوید   ،علی مہدی، ولایت علی، عرفان قریشی، بشیر احمد، صفدر مگسی اور  فرحان قیصر  کے نام شامل ہیں۔ ایف آئی آر میں  بلڈر مزمل امین درزی، سابق مختار کار خیر محمد ڈاہری، سمیع سومرو کا نام بھی  شامل ہے۔

 ایف آئی آر میں موقف اپنایا گیا ہے کہ  سندھی مسلم سوسائٹی کی انتظامیہ نے بلڈر مزمل امین درزی سے ملی بگھت کرکے سروس روڈ کی  264 گزاراضی  الاٹ کی،بلڈر کے پاس 780 اسکوائر یارڈ کی لیز تھی، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ، مختار جمشید ٹاؤن نے بھی رشوت کےعوض جعلی انٹری کی  جبکہ ایس بی سی اے افسران نے رشوت لیکر 780 اسکوائر گز کی جگہ پر 1122 گز پر عمارت بنانے کی منظوری دی۔

نسلہ ٹاور کے مالک اور سابق سیکریٹری سندھی مسلم سوسائٹی  نے عبوری ضمانت میں 22جنوری تک توسیع حاصل کرلی۔عدالت نے ملزمان کو 10،10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

گزشتہ روز سیشن عدالت نے نسلہ ٹاور کے مالک  اور سندھ مسلم سوسائٹی کے سابق سیکریٹری  کی عبوری ضمانت میں 22جنوری تک توسیع کردی۔اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی خالد حسین شاہانی نے باالترتیب 30دسمبر اور 6 جنوری  کو ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

نسلہ ٹاور کے مالک  عبدالقادر، محمد ولایت علی داتا اور ایس ایم سی ایچ ایس کے سابق ایڈمنسٹریٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی  کے اہم افسران، ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر اور ان کے ماتحت افسران  کے خلاف سروس لین کے 341 مربع گز پر قبضہ کرکےنسلہ ٹاور کی غیر قانونی تعمیر کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزم عبدالقادر  کے وکیل عبدالمجید کھوسو نے موقف اختیار کیا کہ عبدالقادر نے 2015 میں  مزمل نامی شخص  سےسندھی مسلم سوسائٹی میں میں پلاٹ نمبر A-193 خریدا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل 77 مربع گز کا پلاٹ اس وقت کی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی نے 2004 میں شارع فیصل پر فلائی اوور کی تعمیر کے لیے حاصل کیا تھا۔ اس کے بدلے میں سٹی گورنمنٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹی کو 240 مربع گز فراہم کیے تھے، جسے بعد میں متعلقہ قوانین کے تحت ریگولرائز کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی سمیت تمام متعلقہ شہری  اداروں نے نسلہ تاور کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ وکیل نے بتایا کہ منصوبے کے لیے تمام این او سیز 2007 سے 2013 تک جاری کیے گئے، عبدالقادر کو یہ نہیں معلوم تھا کہ مذکورہ  زمین  خریداری کے وقت کسی گرے لسٹ میں تھی۔

واضح رہے کہ پولیس نے گزشتہ روز سندھی مسلم سوسائٹی کے سابق اعزازی سیکریٹری  نوید بشیر کو گرفتار کرکے عدالت سے 21 جنوری تک جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر