ضلع قصور کے قدیمی محلے کی فارمی مچھلی ذائقے میں اپنی پہچان آپ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور کی مچھلی کو نا صرف شہر قصور بلکہ لاہور سمیت صوبہ بھر میں خاصی اہمیت حاصل ہے۔ لوگ اسے دور دور سے کھانے کیلئے آتے ہیں جبکہ ابتدا میں قصور میں نہری اور دریا کی مچھلی فروخت کی جاتی تھی لیکن مچھلی کی مانگ میں اضافے اور پذیرائی کی وجہ سے اب اُس کی طلب پوری کرنے کے لیے فارم کی مچھلی استعمال کی جاتی ہے۔
قصور کی مچھلی 70 کی دہائی میں قصور کے قدیم اندرون محلے کی تنگ گلیوں سے شروع ہوئی اب اس کی مقبولیت کے باعث مچھلی کی بہت سی دکانیں کھل چکی ہیں مگر قصور کے قدیمی محلے میں جاوید کی فرائی مچھلی کو خاص پذیرائی حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سمن آباد موڑ کا گاجر کا حلوہ اور کشمیری جائے سردیوں کی سوغات
ایم ایس سی پاس عامرہ لیاقت خواتین کے لیے طاقت کی علامت
دکاندار علی جاوید کا کہنا ہے کہ ڈھائی سے 3 کلو مچھلی لی جاتی ہے، صاف کر کے ایک دن تک مصالحہ لگا کر رکھ دی جاتی ہے۔ 200 سے اڑھائی سو گرام کی کٹنگ کر کے پہلے توے پر ہاف فرائی کیا جاتا ہے دوسرے اور تیسرے توے پر فل فرائی کیا جاتا ہے مچھلی کو اپنے ہاتھ کے تیار شدہ مصالحہ جات سے تیار کیا جاتا ہے مچھلی کی تیاری میں زیادہ وقت نہیں مگر محنت زیادہ لگاتی ہے۔
قصور شہر اپنی مزیدار مٹھائیوں اور سوکی میھتی اور مصالحے دار مچھلی کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے علاؤہ قصور کے کھانوں میں فالودہ، قصوری اندرسا اور دیگر اشیاء مشہور ہیں
پاکستان بھر سے آئے لوگوں کا کہنا ہے کہ قصور شہر میں خاص طور پر اس مچھلی کو کھانے کیلئے آتے ہیں سردی کی شدت میں اضافے میں دوستوں اور فیملی کے ساتھ آکر اس کو کھانا پسند کرتے ہیں اس کا ذائقہ اور تاثیر سردیوں کے مزے کو دوبالا کر دیتا ہے۔









