نیٹ فلکس کی سیریز "دی کوئنز گیمبٹ” کے خلاف ہتک عزت کے کیس کی سماعت
جارجیا کی شطرنج کی چیمپئن نونا گاپرنداشویلی نے گزشتہ سال ستمبر میں اسٹریمنگ کی سب سے بڑی سروس کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
کیلیفورنیا کی عدالت کے ایک جج نے سابق سوویت یونین کی شطرنج کی سابق چیمپئن نونا گیپرنداشویلی کی نیٹ فلکس سیریز "دی کوئنز گیمبٹ” کے خلاف دائر درخواست پر کارروائی معطل کرنے سے انکار کردیا ہے۔
شطرنج کی چیمپیئن کی جانب سے نیٹ فلکس کی سیریز "دی کوئنز گیمبٹ” پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سیریز کی ایک قسط میں ” نونا گیپرنداشویلی” کو بدنام کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دنیا کے بہترین کرکٹر پاکستان میں ہیں،مجھے ان پر فخر ہے، عاصم اظہر
دورہ پاکستان کے حوالے سے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم الجھن میں مبتلا
نونا گیپرنداشویلی نے 1960 کی دہائی میں سوویت یونین میں شطرنج کے چیمپیئن کے طور پر شہرت حاصل کی۔ گزشتہ سال، اس نے امریکہ کی ایک وفاقی عدالت سے اس سیریز پر سوال اٹھاتے ہوئے رجوع کیا ، جس میں اس کے کردار اور مکالمے کو غلط انداز سے پیش کیا گیا ہے۔
سیریز میں ایک موقع پر کہا گیا ہے کہ خواتین کی عالمی چیمپیئن نے کبھی مردوں کا سامنا نہیں کیا ہے۔ شطرنج کی 80 سالہ کھلاڑی کا خیال ہے کہ یہ لائن "جنس کی مخالفت پر مبنی ہے۔ نونا گیپرنداشویلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1968 تک تقریباً 59 مرد حریفوں کا سامنا کیا۔
جواب میں نیٹ فلکس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ کیس 5 ملین ڈالر حاصل کرنے کے لیے کیا گیا جبکہ شو میں جو کچھ دکھایا گیا اس کا ہتک عزت سےکچھ لینا دینا نہیں ہے، تاہم ڈسٹرکٹ جج نے نیٹ فلکس کی دلیل سے اتفاق نہیں کیا ہے۔
جج کا کہا ہے کہ نونا گیپرنداشویلی نے ایک قابل فہم دلیل دی ہے کہ شو سے اس کی بدنامی ہوئی ہے۔ اس نے یہ بھی دلیل دی کہ اگر ایک فکشن شو میں حقیقی لوگوں کو دکھایا گیا ہے، تو پھر خیالی اسکرپٹ بھی ہتک عزت کے مقدمے سے محفوظ نہیں ہیں۔
سٹریمنگ سروس نے استدلال کیا کہ ڈسپلے کو شطرنج کے دو ماہرین کو صحیح طریقے سے معلومات فراہم کرنے کی کوشش میں دکھانا تھا اور ان کا مطلب نونا گیپرنداشویلی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا۔ اسٹریمنگ سروس کے وکیل کی طرف سے دیے گئے بہت سے دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی تھی کہ شو میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شو کے تمام کردار فرضی تھے۔ دوسری جانب جج نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ شطرنج کے کھلاڑی کے حقائق پر مبنی دعوے کو رد کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔









