مفت کی شرٹس پر صحافی اور کیمرامین ٹوٹ پڑے
کمشنر کراچی نے میراتھون کا اعلان کرنے کیلیے 40 صحافیوں کو پریس کانفرنس میں مدعو کیا، 100 سے زائد صحافی پہنچ گئے۔

کمشنر کراچی اقبال میمن نے تیسری کراچی میراتھون کے انعقاد کا اعلان کر دیا ہے، میراتھون کے لیے رجسٹریشن کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ کمشنر نے شہریوں سے درخواست کی کہ 13 فروری کو صبح دس بجے سے شروع ہونے والے اس ایونٹ میں شرکت کریں۔
مرد شرکا کو 10 کلومیٹر جبکہ خواتین شرکا کو 6 کلومیٹر دوڑنا ہوگا، ریس معین خان اکیڈمی سے شروع ہوگی اور خیابانِ ٹیپو، عبدالستار ایدھی ایوینیو سے ہوتی ہوئی خیابان اتحاد اور پھر واپس اکیڈمی تک آئے گی۔
کمشنر اقبال میمن نے میراتھون کو کراچی کے لیے اہم قرار دیا، انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے کراچی کو پرامن شہر بنانے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میرتھون تمام شہریوں کو یکجا کرنے کا ایک طریقہ ہے، ایسی کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو متحرک کرتی ہیں اور ان میں شہر کی ملکیت کا شعور پیدا کرتی ہیں۔
میراتھون کے راستوں پر کیمپس بھی لگائے جائیں گے جہاں پانی، بنیادی طبی سہولت، کھانا اور شٹل سروسز فراہم کی جائیں گی۔
سب سے اچھی بات یہ ہے کہ خصوصی افراد کے لیے علیحدہ مقابلے کروائے جائیں گے تاکہ انہیں بھی ایک اجتماعی شہری ایونٹ میں نمائندگی مل سکے۔
دوسری طرف کمشنر اقبال میمن نے کراچی میراتھون کے حوالے سے پریس کانفرنس کی میڈیا کوریج کے لیے صرف 40 صحافیوں کو دعوت نامے دیئے تھے لیکن 100 سے زائد صحافی اس کی کوریج کے لیے پہنچ گئے۔
کمشنر آفس کی طرف سے میراتھون کی پروموشن کے لیے خصوصی شرٹس تیار کی گئیں تھیں اور کچھ تحائف بھی تھے جو کہ صحافیوں میں تقسیم کرنا تھے۔
لیکن جب مدعو کیے گئے صحافیوں کے علاوہ بھی درجنوں صحافی کمشنر آفس آگئے تو شرٹس کی تقسیم کے وقت بھگدڑ مچ گئی۔
ویسے ہی کچھ نام نہاد صحافیوں نے شعبہ صحافت کو اپنی حرکتوں سے بدنام کر رکھا ہے اوپر سے یہ تحفے، ٹوکرے اور لفافے اور شرٹس لینے والے صحافی بھی نکل آئے ہیں جو بغیر بلائے پریس کانفرنس میں پہنچ جاتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے تحائف پر لڑتے ہیں، ہلڑ بازی کرتے ہیں۔









