نور مقدم قتل کیس، ملزم ظاہر جعفر کی تینوں درخواست مسترد کردیں
مدعی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ملزم کی جانب سے تین تین درخواستیں جمع کرانے کا مقصد کیس کو طوالت دینا ہے۔

اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی آئی جی اسلام آباد کے خلاف کارروائی، وقوعہ کے نقشے اور مقتولہ کی والدہ کے موبائل فون کی ملکیت سے متعلق تینوں درخواستیں مسترد ہوگئیں۔
اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج عطا ربانی کی عدالت میں نور مقدم کیس کی سماعت ہوئی جس میں پبلک پراسیکیوٹر حسن عباس نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی تین درخواستوں پر دلائل میں کہا کہ ملزم کی درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ پولیس نے پریس کانفرنس میں عدالتی کارروائی پر وضاحت کی جبکہ پولیس کی جانب سے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی گئی بلکہ پولیس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عدالتی کارروائی کی غلط رپورٹنگ پر وضاحت جاری کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
روہڑی کے قریب مندر میں ڈکیتی، مسلح ڈاکو مورتیوں سے زیورات اور تاج لے گئے
ناظم جوکھیو قتل کیس: جوڈیشل مجسٹریٹ کا پولیس چالان پر فیصلہ محفوظ
مدعی کے وکیل نثار اصغر نے ملزم کی تینوں درخواستوں کو کیس کو طول دینے کی کوشش قرار دیا۔
ملزم کی جانب سے مقتولہ نور مقدم کی والدہ کے زیر استعمال موبائل نمبر کی اصل ملکیت جانچنے سے متعلق درخواست پر مدعی کے وکیل نثار اصغر کا کہنا تھا کہ "یہ نمبر مقتولہ کی والدہ کے زیر استعمال ہے اور اس کی تصدیق کال ریکارڈ ڈیٹا سے حاصل ہونے والی لوکیشن سے کی گئی ہے۔”
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اس درخواست کا ملزم کے دفاع سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ کال ریکارڈ یا ڈیٹا کی بنیاد پر ہمارا کیس ہی نہیں ہے۔
نور مقدم قتل کیس کے ملزم کی جانب سے دائر جائے وقوعہ کے نقشے سے متعلق تیسری درخواست پر بھی عدالت میں بحث ہوئی۔ ملزم کے معاون وکیل شہریار خان نے دلائل میں کہا کہ جائے وقوعہ کا نقشہ درست انداز میں نہیں بنایا گیا، جہاں جنگل ہے وہاں گھر دکھایا گیا اور خارجی راستوں اور بیسمنٹ کا بھی ذکر موجود نہیں ہے۔
مدعی کے وکیل نے جوابی دلائل میں کہا کہ "نقشے میں لکھا گیا ہے کہ کون سا ایریا گرین ہے اور جنگل کا حصہ ہے۔ نقشہ کسی طور پر بھی ملزم کے حق میں شواہد یا کسی گواہ پر اثر انداز نہیں ہوتا اس لیے یہ درخواست بھی مسترد کی جائے۔”
عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعد میں درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے تینوں درخواستیں خارج کر دیں۔ کیس کی مزید سماعت بدھ 9 فروری کو ہوگی۔









