پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر

ایک رپورٹ کے مطابق تعلیم کے شعبے میں نمایاں کامیابیوں کے باوجود پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 23 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں نمایاں بہتری کے باوجود 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہے ، یہ تعداد دنیا بھر میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی دوسری بڑی تعداد ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 23 ملین بچے اسکول نہیں جاتے، جو کہ اس عمر کے بچوں کی کل آبادی کا 44 فیصد ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مراد سعید کی محنت رنگ لے آئی، وزراء کارکردگی میں پہلے نمبر پر آگئے

آرٹیکل 62-63 ، نواز شریف سے فیصل واوڈا تک

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل اے 25 کے تحت 5 سال سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیس نہ دینے پر نکالے جانے والے بچے اسی اسکول کے باہر چپس بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔

اے ڈی بی کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان میں مجموعی پر اسکولوں کی حالت بہتر ہوئی ہے ، تاہم اب بھی اہل بچوں کو معیاری اور مناسب تعلیم کے حصول میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں کے 6 سے 16 سال کی عمر کے 16.7 فیصد بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر سطح پر لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی بڑی تعداد اسکول سے باہر ہے ۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں 52 فیصد غریب بچے اسکولوں سے باہر ہیں ، جن میں سے 58 فیصد لڑکیاں ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں 78 فیصد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔

متعلقہ تحاریر