اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ، کوئی کیس بغیر کارروائی ملتوی نہیں ہوگا
چیف جسٹس ہائیکورٹ کی ہدایت پر نئی پالیسی جاری، 1996 سے 2010 تک کے مقدمات قدیم ترین شمار ہوں گے، دو ماہ میں نمٹائے جائیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے زیرالتوا کیسز کی سماعت مقرر کرنے کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرلیا، نئی پالیسی کے تحت کوئی کیس بغیر کسی کارروائی کے ملتوی نہیں کیا جائے گا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ کی ہدایت پر رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے مقدمات سماعت کے لئے مقرر کئے جانے کی پالیسی جاری کردی۔
پالیسی کے تحت 1996 سے 2010 تک کے کیسز کو "قدیم ترین کیس” شمار کیا جائے گا۔
ہفتہ وار بنیادوں پر کیس پر سماعت ہوگی، سب سے پرانے زمرے کے کیسز پر سرخ جھنڈا(یاد داشت کی پرچی) لگایا جائے گا۔
یہ مقدمات ہائیاسلام آباد ہائیکورٹکورٹ بار کے تعاون سے دو ماہ کی مدت میں نمٹائے جائیں گے۔
فریقین اور ان کے وکیل کو مقدمات کے بارے میں ایس ایم ایس، ٹیلی فون اور ای میل کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔
ہائیکورٹ بار کے دفتر کے ذریعے قدیم ترین زمرہ کے عنوان سے الگ فہرست جاری کی جائے گی، پرانی کیٹیگری میں سال 2011 سے 2014 تک کے کیسز کو پرانے زمرہ کے طور پر سمجھا جائے گا۔
15 دن کی بنیاد پر کیسز کی سماعت کی جائے گی۔ پرانا زمرہ میں 2015 سے 2017 سال کے دوران دائر کیے گئے مقدمات کو دفتر سال 2022 میں تین بار سماعت کے لئے مقرر کرے گا۔
ہائیکورٹ اعلامیہ کے مطابق 2018 کے بعد کے مقدمات کو سنا اور نمٹایا جائے گا جن میں خصوصی زمرہ کے مقدمات سے متعلق ایف آئی آر کی منسوخی، ہراساں کرنا اور عبوری احکامات شامل ہیں۔
سیکشن 22-A اور B Cr.P.C کی کارروائی کے خلاف دائر درخواستیں ہفتہ وار بنیادوں پر سماعت ہوگی، تاریخ سماعت عدالتی بینچ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔
سماعت کیلیے ترجیحی مقدمات میں فیملی، کرایہ اور باقاعدہ پہلی اپیلوں سے متعلق معاملات کو دی جائے گی۔
اعلامیہ کے مطابق قدیم ترین زمرے کے کیسز جمعرات کو طے کیے جائیں گے اور اس دن کوئی دوسرا مقدمہ نہیں سنا جائے گا۔
کوئی بھی معاملہ جس میں سب سے پرانے اور پرانے زمروں میں پابندی کا حکم ہے، دفتر کی طرف سے ہر بینچ کو ان کے مشاہدات کے لیے الگ سے مطلع کیا جائے گا۔
خاص طور پر خاندان، جائیداد سے متعلق معاملات، قدیم ترین زمرے میں آنے والے مقدمات میں کوئی بھی التوا نہیں دیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ عدالت کی یہ کوشش ہوگی کہ سزا کے خلاف ہر اپیل اور نظرثانی کا فیصلہ ہو اور 90 دنوں کے اندر اسے نمٹا دیا جائے۔
مقدمات کے تعین کے بارے میں کسی بھی بینچ کی طرف سے ہدایات تحریری ہوں گی۔
عدالت کی طرف سے مقرر کردہ کسی بنچ کی غیرموجودگی میں مقدمات دستیاب بینچز کے سامنے رکھے جائیں گے۔
ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تمام عدالتی شاخیں بشمول انسٹی ٹیوشن برانچ، فکسیشن پالیسی پر عمل کریں۔









